امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ایک عہدیدار نے انکشاف کیا ہے کہ افغانستان میں ترقیاتی کام جاری رکھنے کے لیے واشنگٹن نے ایران کی چابہار بندر گاہ کو اقتصادی پابندیوں سے محدود استثنیٰ دیا ہے۔
الجریزہ کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے بتایا کہ وسیع تر غور و فکر کے بعد نومبر 2018 میں ٹرمپ انتظامیہ نے (ایران کی چابہاربندر گاہ) کو ایک محدود استثنیٰ دیا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ ‘اس محدود اجازت کا مقصد افغانستان کی تعمیر نو اور ترقی جاری رکھنا ہے جو ایک اہم امریکی اتحادی ہے’۔
انہوں نے بتایا کہ چاب بہار بندرگاہ پر اس مقصد کے لیے محدود پیمانے پر فعال ہے جس کا واحد مقصد افغانستان کی تعمیر نو ہے۔
واضح رہے کہ اس استثنیٰ کے نتیجے میں افغانستان ایرانی ایندھن اور ایران سے تیار شدہ سامان درآمد کرنے کے قابل ہے جو انسانی امداد کے لیے انتہائی ضروری سمجھا جاتا ہے لیکن یہ بندرگاہ خطے میں امریکی مفادات کے لیے بھی کام کرتی ہے۔
امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ترجمان نے بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جنوبی ایشیا کی حکمت عملی میں ‘افغانستان کی معاشی نمو اور ترقی کے ساتھ بھارت سے قریبی شراکت داری بھی شامل ہے’۔
انہوں نے بتایا کہ بھارت اور افغانستان دونوں کے ساتھ اپنے قریبی تعلقات کو فروغ دینے کی کوشش کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ خطے میں ایرانی حکومت کی ‘غیر مستحکم پالیسیوں’ کو تبدیل کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ دباو¿ پر مشتمل حکمت عملی پر عمل درآمد کرتے ہیں۔
واضح رہے کہ چابہار بندرگاہ ایران میں روڈ اور ریل کے ذریعے پاکستان میں گوادر بندرگاہ تک ایک زیادہ محفوظ متبادل راستہ پیش کرتا ہے جو چین کے زیر انتظام ہے۔
تہران میں مقیم سیاسی تجزیہ کار محمد حسین انصاریفارڈ نے کہا کہ ‘خطے میں ایران کے اثر و رسوخ کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا’۔
انہوں نے کہا کہ ‘ایران خطے میں سیکیورٹی کے تمام سازو سامان پر اثر انداز ہوسکتا ہے، مثال کے طور پر شام، عراق، لبنان، یہاں تک کہ یمن میں بھی ایران کا بہت برا اور وسیع اثر ہے جو بہت ضروری بھی ہے۔
محمد حسین اںصار ریفارڈ نے کہا کہ اگر ایران امریکیوں کے ساتھ تعاون نہیں کرتا تب خطے میں مسئلہ زیادہ پیچیدہ اور امریکیوں کے لیے زیادہ مہنگے ہوجائیں گے، میرے خیال میں ایران کو چابہار بندرگاہ رکھنے کی یہ ایک بہت ہی اچھی وجہ ہے۔
خیال رہے کہ مئی میں کابینہ کے اجلاس کے دوران ایرانی صدر حسن روحانی نے چابہار بندرگاہ کو ایران کے معاشی مستقبل کی تشکیل کا ایک اہم حصہ قرار دیا تھا۔
خیال رہےکہ اس وقت چابہار بندرگاہ کو ترقی دینے میں بھارت واحد دوسرا بڑا سرمایہ کار ہے لیکن ایرانی رہنماو¿ں نے متعدد مرتبہ اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ زیادہ سے زیادہ ہمسایہ ممالک کو اس بندرگاہ کی تعمیر کے لیے شامل کرکے اسے علاقائی مرکز بنائے۔
یونیورسٹی کے ایک محقق کے مطابق زیادہ سے زیادہ ممالک چابہار بندرگاہ میں سرمایہ کاری کرتے ہیں تو مستقبل میں ان کی منظوری اتنی ہی مشکل ہوجائے گی۔
انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں یہ دو طرفہ تجارت ہے، اسے ایران اور افغانستان کے تناظر میں محدود کرنا ٹھیک نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘چابہار بندرگار مشرقی ایشیا سے یورپ جانے والے (بحری جہازوں) کے لیے بھی ایک آرام دہ بندرگاہ ہوگی، وہ چابہار میں رک سکتے ہیں، ایندھن اور نیا سامان لے جانے کےلیے بھی’۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ چابہار بندرگاہ امریکا اور ایران کے مابین دیگر علاقائی سلامتی کے مسائل میں بھی تعاون کا باعث بن سکتی ہے۔
یاد رہے کہ یورپی ممالک نے گزشتہ برس ستمبر میں بھی ایران پر زور دیا تھا کہ وہ اقوام متحدہ کے جوہری معائنہ کاروں سے تعاون کرے۔
یورپی ممالک کی جانب سے مذکورہ بیان اس وقت سامنے آیا تھا جب تہران نے دھمکی دی تھی کہ امریکا اور اسرائیل کے غیرضروری دباو¿ کے نتیجے میں بین آئی اے ای اے کی ایران میں سرگرمیاں بری طرح متاثر ہوسکتی ہیں۔
برطانیہ، فرانس، جرمنی اور یورپی یونین کے خارجہ پالیسی چیف نے مشترکہ اعلامیے میں کہا تھا کہ ‘انہیں ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق تشویش لاحق ہے کہ تہران 2015 کے جوہری معاہدے میں طے شدہ مقدار سے زیادہ جدید سینٹری فیوجز لگا رہا ہے’۔
دوسری جانب امریکا نے 2018 دیگرعالمی طاقتوں کے ہمراہ ایران کے ساتھ کئے گئے جوہری معاہدے کو ختم کرکے ایران پر پابندیاں عائد کردی تھیں۔
تاہم امریکا نے ایران پر پابندیوں کے باوجود معاہدے میں شامل دیگر ممالک کے ساتھ کئی معاملات میں نرمی رکھی تھی جس میں غیر ملکی کمپنیوں کو ایران کے مخصوص جوہری تنصیبات کے ساتھ کام کرنے کی اجازت بھی شامل تھی۔
امریکا کے اس اقدام کو معاہدے کے حامیوں نے عالمی ماہرین کے لیے ایران کے ایٹمی پروگرام تک رسائی کو ایک راستے سے تعبیر کیا تھا اور ادویات بنانے کے لیے استعمال ہونے والے چند مراکز کو انسانی بنیادوں پر اہم قرار دیا تھا۔