تربت و ہوشاپ میں بلوچ نسل کشی وجبری گمشدگیوں کیخلاف احتجاجی دھرنے جاری

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان کے ضلع کیچ میں دو مقامات پر بلوچ نسل کشی اور جبری گمشدگیوں کیخلاف احتجاجی دھرنے جاری ہیں۔

ضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت میں ظریف عمر اور نوید حمید کے قتل پر انصاف کی حصول کیلئے لواحقین کااحتجاجی دھرنا کیمپ جاری ہے۔

جبکہ دوسری طرف زمان جان اور ابوالحسن کی رہائی کے لیے ہوشاپ میں سی پیک شاہراہ پربدستور بند اور لواحقین کا دھرنا جاری ہے۔

تربت میں شہید فدا چوک میں گذشتہ 5 دنوں سے تمپ میں قتل کیے گئے ظریف عمر اور بلیدہ میں قتل کیے گئے نوید حمید کے اہل خانہ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کی احتجاجی کیمپ میں ضلعی انتظامیہ اور سیکیورٹی فورسز کے خلاف مظاہرہ کیا جارہا ہے۔

مظاہرین نے شہید فدا چوک کو چاروں جانب بند کرکے ٹریفک معطل کردی ہے۔

اسی طرح زمان جان اور ابوالحسن کے لیے ہوشاپ زیرو پوائنٹ پر سی پیک شاہراہ چوتھے دن بدستور بند ہے ۔ اس دوران خواتین اور بچوں نے شاہراہ پر مظاہرہ کیا اور رکاوٹیں ڈال کر ٹریفک بھی جام کررکھا ہے۔

انہوں نے زمان جان اور ابوالحسن کی رہائی تک دھرنا دینے اور شاہراہ بند کرنے کا اعلان کررکھا ہے۔

واضح رہے کہ زمان جان اور ابوالحسن کو 16 دسمبر 2024 کو تربت سے لاپتہ کیا گیا تاہم سی ٹی ڈی کے ذریعے ان کی گرفتاری کل یکم جنوری کو قلعہ عبداللہ سے ظاہر کی گئی اور ان پر کالعدم تنظیم سے تعلق رکھنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔لیکن فیملی نے ان الزامات کو مسترد کردیا ہے۔

Share This Article