بلوچستان کے صنعتی شہر حب چوکی سے گذشتہ شب پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری گمشدگی کے شکار نوجوان صحافی اور طالبعلم زبیر بلوچ ولد الطاف کی بازیابی کیلئے احتجاجاًلواحقین نے حب میں بھوانی کے مقام پر مرکزی شاہراہ کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کردیا ہے۔
جبکہ ضلع کیچ کے علاقے تجابان میں بھی ورثا نے احتجاجاً سی پیک شاہراہ بلاک کردیا ہے۔
حب چوکی میں جاری دھرنے میں زبیر بلوچ کی ہمشیرہ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ زبیر بلوچ کی بازیابی کیلئے ریاست کو 3 دن کا الٹی میٹم دیدیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جبری گمشدگی ایک ایسا ناسور عمل ہے، جس سے آج ہر بلوچ گھر متاثر ہے۔ کسی کا بھائی، کسی کا بیٹا، تو کسی کا باپ اس ریاست کے عقوبت خانوں میں آج اپنے بلوچ ہونے کی سزا کاٹ رہا ہے۔ آج جس وقت ہم آپ کے سامنے اپنا نوحہ سنانے آئے ہیں، دو مختلف جگہوں پر دھرنے چل رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ قلات میں اُن کے گھر والوں کی طرف سے سید اختر شاہ کی بازیابی کے لئے تو وہیں دوسری جانب تربت ڈی چوک پر ایک خاندان اپنے والد کے لیے انصاف مانگنے کو بیٹھی ہے۔ ہم سے اکثر پوچھا جاتا ہے کہ بلوچوں کا مسئلہ کیا ہے؟ بلوچوں کا مسئلہ زندہ رہنے کے لئے مسلسل جد و جہد ہے، بلوچوں کا مسئلہ بلوچ عوام کو اس غیر انسانی تشدد و اجتمائی سزا سے نجات دلانا ہے، بلوچوں کا مسئلہ جبری گمشدگی کے اس ناسور کو ختم کرنا ہے۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ زبیر ولد الطاف بلوچ، تجابان تربت کے رہائشی ایک طالبعلم ہیں، جنہوں نے بلوچستان یونیورسٹی سے پولیٹکل سائنس میں ابھی حال ہی میں گریجویشن کی ہے۔ اور وہ صحافت کے شعبے سے بھی وابستہ رہے ہیں۔ ابھی چھٹیوں کی مناسبت سے اپنے گھر حب چوکی آئے ہوئے تھے۔ جب کل رات کو تقریباً تین بجے مسلح افراد ہمارے گھر میں داخل ہوکر بندوق کے زور پر زبیر بلوچ کو تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے جبری طور پر گمشدہ کیو جاتا ہے۔
یاد رہے، کہ جبری گمشدگی کے اس عمل میں ریاست اور اُس کے قانون نافظ کرنے والے ادارے ملوث رہے ہیں، اور ہمیں خدشہ ہے کہ زبیر بلوچ کو بھی صرف ایک بلوچ طالبعلم ہونے کی بنیاد پر اجتمائی سزا کے طور پر جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا۔ بلوچستان میں گزشتہ کچھ وقت سے جس طرح جبری گمشدہ افراد کو فیک انکاؤنٹر میں قتل کیا جا رہا ہے، ہمیں خدشہ ہے کہ زبیر کو اسی طرح ریاست کی طرف سے نقصان نہ دیا جائے۔
انہوںنے کہا کہ یہ ہو نہیں سکتا کہ ریاست ہمارے پیاروں کو جانوروں کی مانند تشدد کرتے ہوئے ہم سے چھین کر اُنہیں جبری طور پر گمشدہ کرے اور اس ضمن میں ہم مکمل خاموشی اختیار کریں۔ ہمارا صرف ایک سادہ سا اور بنیادی مطالبہ ہے کہ زبیر بلوچ کو باحفاظت بازیاب کیا جائے۔ اور اس کے لئے ہماری فیملی کی جانب سے اس وقت تربت ڈی چوک میں دھرنا جاری ہے اور دوسری طرف ہم حب چوکی میں بھوانی بھائی پاس چوک پر اپنا دھرنا جاری رکھیں گے۔
ورثاکا کہنا تھا کہ ہم ریاست کو تین دن کا الٹی میٹم دیتے ہیں کہ اگر تین دن کے اندر زبیر بلوچ کو باحفازت بازیاب نہیں کیا جاتا تو اس دھرنے کو وسعت دیتے ہوئے ہم مزید سخت لائحہ عمل اختیار کرنے پر مجبور ہوں گے۔ اس ضمن میں ہم بلوچ عوام سے یہ دست بندانہ اپیل کرتے ہیں کہ جبری گمشدگی ایک خاندان کا مسئلہ نہیں بلکہ کُل بلوچ قوم کے لئے ایک سنگین خطرہ ہے۔ کل کو کسی اور کا بیٹا لاپتہ ہوا، آج ہمارا بھائی تو کل کسی اور بلوچ گھر کے شمع کو بجھانے کی کوشش کی جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم بحیثیتِ قوم، اس مسئلے سے نجات چاہتے ہیں، تو ہمیں اکٹھا ہوکر ریاست کو یہ پیغام دینا ہوگا کہ ہم جبری گمشدگی کے مسئلہ پر خاموش نہیں بیٹھیں گے، بلکہ ایک منظم و محکم قوم کی طرح اس کا مقابلہ کریں گے۔ آج ہر بلوچ کا یہ فرض ہے کہ جس طرح بھی اُس سے ممکن ہو سکے، زبیر بلوچ کی خاطر اپنی آواز اٹھائے۔