شمالی غزہ کے آخری فعال ہسپتال کے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج نے زبردستی اسے خالی کرا لیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس مرکز کے قریب اسرائیلی فضائی حملوں میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے تھے۔
کمال عدوان ہسپتال میں نرسنگ ڈپارٹمنٹ کے سربراہ عید صباح نے بی بی سی کو بتایا کہ جمعے کی صبح سات بجے اسرائیلی فوج نے انتظامیہ کو ہسپتال سے مریضوں اور عملے کو نکالنے کے لیے 15 منٹ دیے۔
ان کے مطابق اس کے بعد فوجی دستے ہسپتال داخل ہوئے اور بقیہ مریضوں کو وہاں سے نکال دیا۔
اسرائیلی فوج نے جمعے کی شام کہا کہ اس علاقے میں آپریشن کیا گیا ہے جو ’حماس کا گڑھ ہے۔‘
اس کے مطابق فوجی دستوں نے ’شہریوں، مریضوں اور طبی حملے کے محفوظ انخلا میں سہولت دی۔‘
اسرائیلی فوج نے اس بارے میں نہیں بتایا کہ مریضوں کو کہاں منتقل کیا گیا ہے۔
رواں ہفتے کے آغاز میں ایک اسرائیلی اہلکار نے کہا تھا کہ اسرائیلی فوج کمال عدوان ہسپتال کے مریضوں کو قریبی انڈونیشین ہسپتال منتقل کرنا چاہتی ہے۔ مگر منگل کو اُس ہسپتال کو بھی خالی کرایا گیا تھا۔
صباح کا کہنا ہے کہ ’یہ خطرناک ہے کیونکہ وہاں انتہائی نگہداشت وارڈ میں بھی مریض ہیں جو کوما میں ہیں۔ انھیں وینٹیلیشن مشینوں کی ضرورت ہے اور منتقل کرنے سے ان کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے۔‘
’اگر فوج مریضوں کو منتقل کرنا چاہتی ہے تو انھیں خصوصی گاڑیاں درکار ہوں گی۔‘
غزہ میں نائب وزیر صحت ڈاکٹر یوسف ابو الریش نے بعد ازاں بی بی سی کو بتایا کہ وہ مریض جو تشویشناک حالت میں ہیں انھیں انڈونیشیا کے غیر فعال ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں جنریٹر اور پانی کی عدم موجودگی ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’آپ اسے ہسپتال نہیں کہہ سکتے۔ یہ ایک پناہ گاہ ہے۔ یہاں مریضوں کے لیے سہولیات نہیں۔‘
عالمی ادارۂ صحت نے کہا کہ اس کارروائی کے باعث شمالی غزہ کا آخری ہسپتال غیر فعال ہوچکا ہے۔ ایکس پر پیغام میں اس کا کہنا تھا کہ ’ابتدائی اطلاعات سے پتا لگا ہے کہ کئی اہم محکموں کو نذر آتش اور تباہ کیا گیا۔‘
دوسری طرف اسرائیلی فوج کے ترجمان نے جمعے کو کہا کہ ہسپتال کے اندر آگ بھڑک اٹھی تھی مگر اب صورتحال کنٹرول میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فوجی ہسپتال کے اندر موجود نہیں اور ’ابتدائی جائزے کے مطابق اسرائیلی فوج کی کارروائی اور آگ لگنے میں کوئی تعلق نہیں۔‘
کمال عدوان ہسپتال کے ڈائریکٹر نے اس سے کچھ گھنٹے پہلے کہا تھا کہ ہسپتال کے آس پاس کے علاقوں کو نشانہ بنانے والے اسرائیلی فضائی حملوں میں تقریباً 50 افراد مارے گئے ہیں جن میں پانچ طبی عملے میں شامل تھے۔
ڈاکٹر حسام ابو صفیہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی جنگی طیاروں نے ہسپتال کے قریب ایک عمارت کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں ایک ماہر اطفال اور ایک لیب ٹیکنیشن کے ساتھ ساتھ ان کے اہل خانہ بھی ہلاک ہوئے۔
انھوں نے کہا کہ ایک تیسرے سٹاف ممبر، جو مینٹیننس ٹیکنیشن کے طور پر کام کرتے تھے، کو نشانہ بنایا گیا اور اسے اس وقت ہلاک کر دیا گیا جب وہ پہلے حملے کے مقام پر پہنچا۔
ان کے مطابق ہسپتال کے دو پیرامیڈیکس ہسپتال سے 500 میٹر (1,640 فٹ) دور تھے جب انھیں ایک اور حملے کے ذریعے نشانہ بنایا گیا اور ہلاک کر دیا گیا جبکہ ان کی لاشیں گلی میں پڑی تھیں اور کوئی بھی ان تک پہنچنے کے قابل نہیں تھا۔
اسرائیلی فوج نے جمعے کی صبح کہا کہ وہ ’کمال عدوان ہسپتال کے علاقے میں ہونے والے حملوں سے لاعلم ہے‘۔
اسرائیلی فوج نے اکتوبر سے کمال عدوان ہسپتال سمیت بیت لاہیا کے علاقے میں سختیاں کر رکھی ہیں۔ اسرائیلی فوج کے مطابق حماس کو وہاں دوبارہ منظم ہونے سے روکنے کے لیے کارروائی شروع کی گئی۔
اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ یہ علاقہ ’تقریباً مکمل محاصرے‘ میں ہے کیونکہ اسرائیلی فوج نے ایسے علاقے تک امداد کی ترسیل پر پابندی لگا دی ہے جہاں ایک اندازے کے مطابق 10,000 سے 15,000 افراد رہ گئے ہیں۔
حالیہ دنوں میں ہسپتال انتظامیہ نے تحفظ کا مطالبہ کیا اور کہا کہ یہ متعدد بار اسرائیلی گولہ باری اور دھماکہ خیز مواد کا نشانہ بن چکا ہے۔