ترکیہ کے صدر طیب ایردوآن کا کہنا ہے کہ اگر کرد باغیوں نے اپنے ہتھیار نہیں ڈالے، تو شام میں انہیں دفن کر دیا جائے گا۔ انقرہ اس بات پر مصر ہے کرد ملیشیا کو ختم کرنا ہے اور اس نے امریکہ سے بھی اس کی حمایت بند کرنے کا مطالبہ کیا۔
ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن نے بدھ کے روز خبردار کیا ہے کہ شام میں کرد جنگجو یا تو اپنے ہتھیار ڈال دیں گے یا پھر انہیں "دفن کر دیا جائے گا”۔ کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) ایک علیحدہ ریاست کے قیام کے لیے سن 1984 سے ہی ترک مملکت کے خلاف نبرد آزما ہے۔
اس ماہ کے اوائل میں شام کے سابق صدر بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے ترکی کے حمایت یافتہ شامی باغیوں اور دیگر مسلح گروپوں کے درمیان جاری مخاصمت کے درمیان ان کا یہ بیان سامنے آیا ہے۔
آٹھ دسمبر کو اسد کی معزولی کے بعد سے انقرہ نے بار بار اس بات پر اصرار کیا ہے کہ کرد باغی گروپ وائی پی جی ملیشیا کو ختم کر دینا چاہیے اور یہ کہ شام کے مستقبل میں اس گروپ کی کوئی جگہ نہیں ہے۔
شام میں قیادت کی تبدیلی نے ملک کے اہم کرد دھڑوں کو بیک فٹ پر لا دیا ہے۔

اسی پر بات کرتے ہوئے ترک صدر نے بدھ کے روز پارلیمنٹ میں اپنی حکمران جماعت اے کے پارٹی کے قانون سازوں کو بتایا کہ "علیحدگی پسند قاتل یا تو اپنے ہتھیاروں کو الوداع کہہ دیں گے، یا انہیں اپنے ہتھیاروں کے ساتھ شام کی سرزمین میں دفن کر دیا جائے گا۔”
انہوں نے مزید کہا کہ "ہم اس دہشت گرد تنظیم کو ختم کر دیں گے، جو ہمارے اور ہمارے کرد بہن بھائیوں کے درمیان خون کی دیوار بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔”
ترک صدر نے اس موقع پر یہ بھی کہا کہ ترکیہ جلد ہی حلب میں اپنا قونصل خانہ کھولنے کا ادارہ رکھتا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ انقرہ کو اگلے سال موسم گرما میں اپنی سرحدوں پر ٹریفک میں اضافے کی توقع ہے، کیونکہ ترکی میں موجود لاکھوں شامی مہاجرین میں سے کچھ اپنے گھروں کو لوٹنا شروع کر دیں گے۔
ترکیہ کردش باغی گروپ وائی پی جی ملیشیا کو شام میں امریکہ کے اتحادی شامی ڈیموکریٹک فورسزکا ہی ایک اہم جز سمجھتا ہے اور اسے کالعدم کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) کی ایک توسیعی ملیشیا قرار دیتا ہے۔
ترکی، امریکہ اور یورپی یونین نے پی کے کے کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے، جبکہ انقرہ نے اپنے نیٹو اتحادی واشنگٹن سمیت دیگر ممالک سے وائی پی جے کی حمایت بند کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔