بلوچستان یونیورسٹی کے کمیٹی روم میں تقریب حلف برداری زیر صدارت پروفیسر ڈاکٹر نصیب اللہ سیماب منعقد ہوا۔
اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن کے انتخابات کے الیکشن کمیشنر ڈاکٹر غلام دستگیر اچکزئی نے انتخابات کے نتائج کا باقاعدہ اعلان کیا۔
تقریب حلف برداری میں سینکڑوں اساتذہ کرام سمیت ایمپللائز ایسوسی ایشن کے صدر شاہ علی بگٹی، جنرل سیکرٹری گل جان کاکڑ، آفیسرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین نذیر احمد لہڑی، جنرل سیکرٹری نعمت اللہ کاکڑ سمیت انکے کابینہ ممبران نے خصوصی طور پر شرکت کی۔
اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن جامعہ بلوچستان کے نومنتخب صدر پروفیسر ڈاکٹر کلیم اللہ بڑیچ، نائب صدر ڈاکٹر شبیر احمد شاہوانی، جنرل سیکرٹری فریدخان اچکزئی، فنانس سیکرٹری پروفیسر ڈاکٹر صاحبزادہ باز محمد کاکڑ، پریس سیکرٹری رحمت اللہ اچکزئی ایگزیکٹیو ممبران ارباب رضا کاسی، میڈم فرہانہ عمر مگسی، ڈاکٹر محب اللہ کاکڑ، ڈاکٹر گل محمد اور مسعود مندوخیل سے ڈین فیکلٹی آف لینگویجز پروفیسر ڈاکٹر نصیب اللہ سیماب حلف لیا۔
تقریب حلف برداری سے پروفیسر ڈاکٹر نصیب اللہ سیماب، پروفیسر ڈاکٹر کلیم اللہ بڑیچ، فریدخان اچکزئی، شاہ علی بگٹی اور نذیر احمد لہڑی نے خطاب کیا۔
نومنتخب عہدیداران کی نمائندگی پر پروفیسر ڈاکٹر کلیم اللہ بڑیچ، فریدخان اچکزئی نے تمام اساتذہ کرام کا خصوصی شکریہ ادا کیا کہ انہوں ایک بار پھر منتخب کابینہ ممبران پر اپنے اعتماد کا اظہار کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ منتخب ممبران کابینہ اساتذہ کرام کی فلاح و بہبود، یونیورسٹی آف بلوچستان کی تعلیمی و تحقیقی، مالی بہتری کے لئے جدوجہد جاری رکھیں گے۔
انہوں نے اس امر پر سخت تشویش کا اظہار کیا کہ بلوچستان حکومت تعلیم وصوبہ دشمن یونیورسٹیز ایکٹ 2022 میں مذید تعلیم وصوبہ دشمن آمرانہ ترامیم کرنے کے درپے ہے جو کسی بھی طرح قابل قبول نہیں ھوسکتی۔
انہوں نے پاکستان پیپلزپارٹی و پاکستان مسلم لیگ نواز کی مخلوط حکومت کے وزیر اعلیٰ و تمام کابینہ سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ یونیورسٹیز ایکٹ 2022 میں تعلیم دوست ترامیم کے لئے بینادی سٹیک ہولڈرز اساتذہ کرام، آفیسران و ملازمین اور طلبا وطالبات خصوصا تمام سیاسی جماعتوں سے مشاورت کریں۔
مقررین نے تمام سیاسی جماعتوں، طلباتنظیموں سول سوسائٹی سے اپیل کیا کہ وہ بلوچستان کی یونیورسٹیوں کے ایکٹ میں تعلیم و صوبہ دوست ترامیم کے لئے صوبائی حکومت کو قائل کریں۔
مقررین نے بلوچستان حکومت پر زور دیا کہ وہ بلوچستان میں ہائر ایجوکیشن کمیشن کی قیام کے لئے سنجیدہ اقدامات اٹھائے اور مالی بحران کی بحران کے مستقل حل کیلئے کم ازکم دس ارب روپے مختص کریں۔
تقریب حلف برداری کے اختتام پر ظہرانے کا انتظام کیا گیا تھا۔