جنگ میں43 ہزار یوکرینی فوجی ہلاک ہوچکے ہیں، زیلنسکی

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے ایک غیرمعمولی اعتراف میں کہا کہ تقریباً تین سال سے جاری جنگ میں روس کے خلاف لڑتے ہوئے 43,000 یوکرینی فوجی مارے گئے ہیں اور لگ بھگ 370,000 زخمی ہوئے ہیں۔

زیلنسکی نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں تحریر کیا،”جنگ کے آغاز کے بعد سے، یوکرین کے 43,000 فوجی میدان جنگ میں مارے گئے ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ،”تقریباﹰ 370,000 زخمی یوکرینی فوجیوں کا طبی علاج کیا گیا‘‘ اور ان میں سے ”نصف‘‘ زخمی فوجی میدان جنگ میں واپس لوٹ گئے۔

زیلنسکی نے فروری میں ہلاک ہونے والے یوکرینی فوجیوں کی تعداد اکتیس ہزار بتائی تھی۔

زیلنسکی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ 198,000 روسی فوجی مارے گئے اور مزید 550,000 زخمی ہوئے۔

عسکری تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ہلاک اور زخمی ہونے والے فوجیوں کی اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہونے کا امکان ہے۔ تاہم فوجی حکمت عملی کے سبب، متحارب فریق ہلاک ہونے والے فوجیوں کی تعداد کے بارے میں درست معلومات فراہم کرنے اسے اکثر ہچکچاتے ہیں۔

نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیرس میں ہفتے کے روز زیلنسکی سے ملاقات کے بعد اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ پر لکھا کہ یوکرین 400,000 فوجیوں کو ”مضحکہ خیز طور پر کھو چکا ہے‘‘ جب کہ 600,000 کے قریب روسی فوجی ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں۔

اُدھر کریملن نے ٹرمپ کے دعووں کو غلط قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کر دیا، لیکن ہمیشہ کی طرح اعداد و شمار نہیں بتائے۔ آزاد میڈیا نے حال ہی میں اپنی تحقیق کی بنیاد پر روسی فوجیوں کی ہلاکت کی تعداد 75 ہزار بتائی تھی۔

Share This Article