شام میں بڑھتی ہوئی کشیدگی ، اسرائیل کا بشار الاسد حکومت کیخلاف دوبارہ غور

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

شام میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں اسرائیل نے بشار الاسد کی حکومت کے حوالے سے اپنے غیر اعلانیہ موقف پر دوبارہ غور شروع کر دیا ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے شام کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے دو اہم اجلاس منعقد کیے ہیں، اور فوج کو مکمل الرٹ رہنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ یہ اقدامات گولان کی پہاڑیوں میں ممکنہ حفاظتی خطرات کے پیش نظر کیے گئے ہیں، جو شام کے جنوب مغرب میں اسرائیل کے زیر قبضہ علاقہ ہے۔

شام کی خانہ جنگی کے آغاز سے ہی اسرائیل نے ایک فعال کردار ادا کیا ہے اور 2015 سے ایران اور حزب اللہ سے منسلک اہداف پر متعدد فضائی حملے کیے ہیں۔

ماضی میں اسرائیل نے خفیہ طور پر ان مخالف گروپوں کی حمایت کی جو شام کی سرحد پر شامی فوج کے خلاف برسرپیکار تھے۔ یہ حمایت طبی امداد، خوراک، فوجی تربیت، اور ہتھیاروں کی فراہمی کی شکل میں تھی، جس کا بعد میں اسرائیلی حکام اور میڈیا نے انکشاف کیا۔

تحریک شام کی قیادت میں حزب اختلاف کی قوتوں کی حالیہ تیز پیش قدمی اور حساس علاقوں پر قبضے نے اسرائیل کو ایک پیچیدہ سیاسی صورتحال میں ڈال دیا ہے۔ اسرائیل کے لیے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو رہا ہے کہ وہ ایران اور حزب اللہ کے خلاف لڑنے والی ان قوتوں کی حمایت کرے یا شامی حکومت کے تسلسل کو ترجیح دے، جو ایران کو شام میں اپنی موجودگی برقرار رکھنے کی اجازت دے رہی ہے، لیکن کئی دہائیوں سے اسرائیل کے لیے براہ راست خطرہ نہیں بن سکی۔

Share This Article