پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں صدارتی آرڈیننس کیخلاف احتجاج جاری،اسلام آباد جانب مارچ کی دھمکی

ایڈمن
ایڈمن
8 Min Read

پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں 3 دو روز سے متنازع پیس فل اسمبلی اینڈ پبلک آرڈر صدارتی آرڈیننس کے خلاف پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال جاری ہے جس کی وجہ سے کاروباری سرگرمیاں مکمل طور معطل ہیں۔

جموں و کشمیر میں شہری تنظیموں کے اتحاد جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے کے جے اے اے سی) نے اعلان کیا ہے کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات ناکام ہونے کے بعد وہ ہفتہ کو علاقے کے داخلی راستوں کی طرف لانگ مارچ کریں گے۔

مرکزی انجمنِ تاجران کے صدر شوکت نواز میر کا کہنا ہے کہ یہ احتجاج صرف صدارتی آرڈیننس کے خلاف نہیں بلکہ بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے بھی ہے۔ ہماری ریاست اور اس کے شہریوں کے حقوق کے لیے یہ احتجاج جاری رہے گا۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں یکم نومبر 2024 کو پیس فل اسمبلی اینڈ پبلک آرڈر آرڈیننس نافذ کیا گیا۔

پاکستانی کشمیر کی سپریم کورٹ نے صدارتی آرڈیننس معطل کر رکھا ہے، تاہم مظاہرین اس کے تحت قائم مقدمات اور گرفتار افراد کی رہائی کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں۔

اس آرڈیننس کے تحت احتجاج کرنے والے افراد کو ضلعی مجسٹریٹ سے پیشگی اجازت حاصل کرنا ہو گی اور احتجاج کے دوران کسی قسم کے ہتھیار، ڈنڈے یا سڑکوں کی بندش کی اجازت نہیں ہو گی۔

جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی اپیل پر جمعرات کو شروع ہونے والے احتجاج کے باعث مظفر آباد سمیت تمام اضلاع میں سڑکیں بند ہیں، پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام مفلوج اور کاروباری مراکز بھی مکمل طور پر بند ہیں۔

حکومت اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان مذاکرات کے دو ادوار بے نتیجہ رہے ہیں جب کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

متنازع قانون کو پاکستانی کشمیر کی سپریم کورٹ نے معطل کر رکھا ہے تاہم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی حکومت کی جانب سے اس آرڈیننس کو واپس لینے اور گرفتار افراد کی رہائی کے بغیر احتجاج ختم کرنے کو تیار نہیں ہے۔

گزشتہ سال پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں آٹے اور بجلی کی قیمتوں میں کمی جیسے مطالبات پر احتجاجی تحریک شروع ہوئی تھی۔

ان احتجاجی مظاہروں کے دوران مظفرآباد میں پاکستان کی پیراملٹری فورسز کے ساتھ تصادم میں کم از کم3 افراد مارے گئے تھے۔

پاکستان کی حکومت نے مظاہرین کے مطالبات تسلیم کرتے ہوئے آٹے اور بجلی پر سبسڈی برقرار رکھنے برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔

تاجر تنظیموں کا دعویٰ ہے کہ حکومت ایک بار پھر آٹے اور بجلی کی قیمتیں بڑھانا چاہتی ہے جس کی پیش بندی کے لیے یہ آرڈیننس لایا گیا ہے۔

متنازع قانون نافذ ہوتے ہی جہاں ایک جانب کشمیر کی قوم پرست جماعتوں کے اتحاد آل پارٹیز رابطہ کمیٹی نے احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع کیا تو دوسری جانب حکومت نے ان مظاہروں میں شامل افراد کے خلاف پے در پے مقدمات درج کرنا شروع کر دیے۔

آل پارٹیز رابطہ کمیٹی کے ترجمان حارث قدیر نے دعویٰ کیا کہ اس قانون کے تحت اب تک 13 مقدمات درج ہو چکے ہیں جن میں کم از کم 300 سیاسی کارکنوں کو نامزد کیا گیا ہے۔

ان میں زیادہ تعداد قوم پرست جماعت جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے مختلف دھڑوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی ہے۔

ان مقدمات میں دو صحافیوں کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔ آل پارٹیز رابطہ کمیٹی کے مطابق کوٹلی، راولاکوٹ اور مظفرآباد سمیت کئی اضلاع میں کم از کم 17 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

آل پارٹیز رابطہ کمیٹی کی قیادت کی گرفتاری کے بعد جموں وکشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی بھی اس احتجاج میں شامل ہو گئی۔

اس متنازع آرڈیننس کو کالا قانون قرار دیتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسے واپس لے کر اس کے تحت درج مقدمات ختم اور گرفتار کارکنوں کو رہا کیا جائے۔

شوکت نواز میر کے مطابق یہ قانون آزادیٔ اظہار اور احتجاج کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے اور اس کا مقصد کشمیر میں لگ بھگ دو سال سے جاری عوامی تحریک کو ختم کرنا ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال احتجاجی تحریک کے بعد حکومت آٹے اور بجلی کی قیمتیں کم کرنے پر رضامند ہو گئی تھی۔ لیکن اب پھر یہ خدشہ ہے کہ حکومت آئندہ مالی سال کے دوران یہ سبسڈی ختم کرنا چاہتی ہے۔

جمعہ کی نماز کے بعد جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنما شوکت نواز میر نے مظفرآباد کے اپر اڈہ کے لال چوک پر سینکڑوں افراد سے خطاب میں مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں خطے کے داخلی راستوں تک لانگ مارچ کرنے کا اعلان کیا۔

انہوں نے کہا کہ مظفر آباد ڈویژن سے مارچ خیبر پختونخوا کے ضلع مانسہرہ کی سرحد سے متصل برار کوٹ تک جائے گا جب کہ پونچھ ڈویژن میں مارچ کوہالہ (باغ ایبٹ آباد سرحد)، ٹین ڈھل کوٹ اور آزاد پتن کی طرف جائیں گے، جو پونچھ اور سدھنوتی اضلاع کو راولپنڈی سے جوڑتے ہیں۔

شوکت میر نے تاجروں کو ہفتہ کی صبح 11 بجے تک اپنی دکانیں کھولنے کی اجازت دی ، جس سے رہائشیوں کو لاک ڈاؤن شروع ہونے سے پہلے ضروری خریداری کرنے کا موقع ملے گا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت حراست میں لیے گئے کارکنوں کو رہا نہ کرنے اور ’کالا قانون‘ منسوخ نہ کرنے پر بضد ہے، انہوں نے الزام عائد کیا کہ یہ اقدامات خطے میں بدامنی پیدا کرنے کے ایجنڈے کا حصہ ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت اس غلط فہمی میں ہے کہ عوام تھک چکے ہیں اور اب جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی حمایت نہیں کریں گے تاہم انہیں نہیں پتہ کہ اس پلیٹ فارم نے عوام کو ان کے حقوق کے بارے میں بیداری پیدا کرکے اور انہیں صحیح اور غلط میں فرق کرنے کے قابل بنا کر بااختیار بنایا ہے۔

یاد رہے کہ آزاد جموں و کشمیر میں صدارتی آرڈیننس کے ذریعے کسی بھی احتجاج اور جلسے سے ایک ہفتے قبل ڈپٹی کمشنر سے اجازت لینا ضروری قرار دیا گیا تھا، اس کے علاوہ کسی غیر رجسٹرڈ جماعت یا تنظیم کے احتجاج پر پابندی عائد کردی گئی تھی۔

اس آرڈیننس کو مرکزی بار ایسوسی ایشن مظفر آباد اور آزاد کشمیر بار کونسل کے 3 ارکان نے آزاد جموں و کشمیر ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

تاہم ہائی کورٹ نے ان درخواستوں کو مسترد کردیا تھا جس کے بعد درخواست گزاروں نے ہائی کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کے لیے سپریم کورٹ آف آزاد کشمیر میں درخواست دائر کردی تھی۔

تاہم سپریم کورٹ آف آزاد جموں و کشمیر نے پرامن احتجاج اور امن عامہ سے متعلق آرڈیننس 2024 کا نفاذ معطل کرتے ہوئے ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف 2 اپیلیں منظور کرلی تھیں، تاہم عوامی ایکشن کمیٹی نے آرڈیننس کی منسوخی تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا تھا۔

Share This Article