عراق : ترکی کی کردستان میں عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر بمباری

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

ترکی کے لڑاکا طیاروں اور توپ خانوں نے شمالی عراق کے صوبے دہوک میں زاخو کے ضلع میں تقریبا بیس ٹھکانوں کو حملوں کا نشانہ بنایا۔ بم باری اور گولہ باری کی ہے۔میڈیا رپورٹوں کے مطابق صوبے میں ترک فوجیوں کو فضائی ذریعے سے اتارے جانے کے دوران متعدد فوجی ہلاک ہو گئے۔

اس سے قبل ترکی کے دو فوجی ہیلی کاپٹروں نے کردستان کے صوبے دہوک میں پہاڑی ٹھکانوں پر بم باری کی۔

عراقی فوج نے منگل کے روز ایک اعلان میں بتایا تھا کہ ترکی کے 18 لڑاکا طیاروں نے عراق کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی۔ فوج نے باور کرایا کہ ترکی کی بم باری اشتعال انگیز حرکت اور عراق کی خود مختاری کی خلاف ورزی ہے۔ اس موقع پر مطالبہ کیا گیا کہ اس طرح کی کارروائی کو دہرایا نہ جائے۔

عراقی وزارت خارجہ نے بغداد میں ترکی کے سفیر کو طلب کر کے احتجاجی یادداشت ان کے حوالے کی۔

اتوار اور پیر کی درمیانی شب ترکی کی فوج نے موصل کے مغرب میں کردستان ورکرز پارٹی کے ٹھکانوں پر شدید بم باری کی۔ ذرائع نے العربیہ کو بتایا کہ ترکی کے طیاروں نے جبل سنجار پر کردستان ورکرز پارٹی کے ٹھکانوں پر 20 کے قریب میزائل داغے۔

مذکورہ ذرائع کے مطابق ان لڑاکا طیاروں نے ترکی میں کئی اڈوں سے اڑان بھری۔ ان میں ملک کے جنوب مشرق میں واقع دو شہر دیار بکر اور ملاطیہ نمایاں ہیں۔

یاد رہے کہ ترکی کی جانب سے کردستان ورکرز پارٹی کے جنگجوئوں کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ خواہ یہ عناصر ترکی کے جنوب مشرق میں کرد اکثریتی علاقے میں ہوں یا شمالی عراق میں ہوں۔

فضائی حملوں کے علاوہ حالیہ برسوں میں ترکی نے زمینی حملے کی بھی دھمکی دی جس کا مقصد قندیل کے پہاڑوں میں کردستان ورکرز پارٹی کے اڈوں کو نشانہ بنانا ہے۔

Share This Article
Leave a Comment