اس وقت سے ڈریں جب ہم گولی کا جواب گولی سے دیں گے،علی امین گنڈا پور

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ امین گنڈا پور نے کہا ہے کہ وہ وفاق کی جانب سے صوبے میں گورنر راج لگائے جانے سے ڈرتے نہیں ہیں۔ وفاق میں ہمت ہے تو لگا کر دکھائے۔

جمعے کی شام خیبرپختونخوا اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پورنے کہا کہ کرسی نہیں عزت اور خودداری چاہیے، اپنے حق کےلیے پرامن طریقے سے جدوجہد کرتے رہیں گے۔

انھوں نے خطاب کے دوران حکومت کو متنبہ کیا کہ کہا کہ ’ڈرو اس وقت سے جب ہم یہ کہیں کہ ہم بھی گولی کا جواب گولی سے دیں گے اور امن کا نعرہ چھوڑ کر نکلیں گے، اسلحہ ہمارے پاس بھی ہے، بارود ہمارے پاس بھی ہے، پیسہ ہمارے پاس بھی ہے۔‘

واضح رہے کہ علی امین گنڈاپور کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بعض حکومتی شحصیات سے منسوب کر کے ایسی خبریں سامنے آئی ہیں جس میں کہا جا رہا ہے کہ کچھ عرصے کے لیے خیبرپختونخوا میں گورنر راج لگانے پر غور کیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے دارالحکومت اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے احتجاج کے دوران ہونے والی ہنگامہ آرائی کے ذمہ داروں کی نشاندہی کرنے اور ان کے خلاف موثر کارروائی کے لیے ٹاسک فورس بھی قائم کر دی ہے اور حکم دیا ہے کہ ’تمام تخریب کاروں‘ کے خلاف ایف آئی آر کاٹی جائیں۔

علی امین گنڈاپور نے خطاب کے دوران الزام عائد کیا کہ ’اس دفعہ 245 لگا کر ان لوگوں نے فوسرز سے ہمیں فورسز سے مروائیں، ایسا کام اگرآپ کے ساتھ ہوتا تو آپ کے اہل خانہ کتنی بد دعائیں دیتے۔‘

انھوں نے دعویٰ کیا کہ وہ گورنر راج سے نہیں ڈرتے۔

’مینڈیٹ بھی ہمارا چوری ہو، لیڈر بھی ہمارا جیل میں، گولیاں بھی ہم کھائیں، پر امن احتجاج بھی ہم نہ کرسکیں، اگر ایسا ہے تو پھر ایسا نہ کہ ہم بھی نعرہ لگادیں کہ ایسا ہے تو پھر ایسا ہی صحیح۔‘

واضح رہے کہ اکتوبر کے آغاز میں بھی گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے صوبے میں گورنر راج لگائے جانے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ معاملات حد سے بڑھ گئے تو گورنر راج لگانے میں کوئی قباحت نہیں ہے۔

انھوں نے کہا تھا کہ جو چیز آئین میں موجود ہو (گورنر رول) اس کا آپشن ضرور موجود ہوتا ہے، گورنر رول ماضی میں لگائے گئے ہیں، جب مرض لاعلاج ہوجاتا ہے تو نہ چاہتے ہوئے بھی فیصلہ کرنا پڑتا ہے۔

یاد رہے کہ 24 نومبر کو سابق وزیر اعظم عمران خان کی رہائی اور دیگر مطالبات کی منظوری کے لیے پاکستان تحریک انصاف کا مرکزی قافلہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں اسلام آباد کے لیے روانہ ہوا تھا۔

تاہم 26 نومبر کو رات گئے رینجرز اور پولیس نے اسلام آباد کے ڈی چوک سے جناح ایونیو تک کے علاقے کو پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں سے خالی کرالیا تھا اور متعدد مظاہرین کو گرفتار کرلیا تھا۔

Share This Article