پاکستان سےایک اور صحافی لاپتہ ، مطیع اللہ پر دہشتگردی کا مقدمہ درج

ایڈمن
ایڈمن
8 Min Read

پاکستان میں جمعرات کے روز نجی چینل سے تعلق رکھنے والے صحافی شاکر اعوان کی بازیابی کے لیے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی گئی ہے۔

‏شاکر اعوان کی والدہ شہناز بیگم کی جانب سے اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے درخواست دائر کی ہے۔

درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ گذشتہ رات وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے اہلکار اور نامعلوم افراد شاکر اعوان کو ان کے گھر سے لے کر گئے لیکن تاحال انھیں کسی عدالت میں پیش نہیں کیا گیا ہے۔

درخواست گزار کا مزید کہنا ہے کہ شاکر اعوان کے خلاف تاحال کسی مقدمے کے اندراج کے حوالے سے بھی تفصیلات فراہم نہیں کی گئی ہے۔ انھوں نے ‏استدعا کی کہ ہائیکورٹ شاکر اعوان کو بازیاب کروا کے عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے۔

لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں ایف آئی اے، پنجاب حکومت، پولیس سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔

شاکر اعوان ایک سینئر کورٹ رپورٹر ہیں جنہیں لاہور سے ایف آئی اے اہلکاروں سمیت درجنوں نامعلوم افراد نے ان کے گھر سے اغوا کر لیا، انہوں نے سی سی ٹی وی کیمرے توڑ دیئے اور موبائل فون سمیت دیگر قیمتی اشیاء بھی ضبط کرلیں۔

دوسری جانب خفیہ ایجنسیوں کے ہاتھوں جبری لاپتہ سینئر صحافی مطیع اللہ جان کی گرفتاری ظاہر کردی گئی ہے ۔

جمعرات کے روز اسلام آباد پولیس نے صحافی مطیع اللہ جان کے خلاف منشیات برآمدگی، پولیس اہلکار سے اسلحہ چھینے، پولیس اہلکاروں کو جان سے مارنے کی کوشش میں اُن پر اسلحہ تاننے جیسے الزامات کے تحت مقدمہ درج کیا۔

اسلام آباد کے تھانہ مارگلہ میں درج مقدمے میں صحافی کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعات بھی شامل کی گئی ہیں۔

درج مقدمے میں الزام عائد کیا گیا کہ صحافی مطیع اللہ سے 246 گرام آئس برآمد ہوئی جبکہ انھوں نے پولیس اہلکاروں کو جان سے مارنے کی کوشش کی۔

یاد رہے کہ صحافی مطیع اللہ جان کے بیٹے نے بدھ کی صبح اسلام آباد پولیس کودرخواست دی تھی جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ’سادہ کپڑوں میں ملبوس نامعلوم افراد نے‘ ان کے والد کے اغوا کر لیا۔

درخواست میں اُن کے بیٹے کی جانب سے الزام عائد کیا گیا کہ اُن کے والد کے اغوا کا واقعہ گذشتہ رات گیارہ بجے کے لگ بھگ اسلام آباد کے پمز ہسپتال کی پارکنگ میں پیش آیا۔

درخواست میں کہا گیا کہ جس وقت مطیع اللہ جان کو ’اغوا‘ کیا گیا اس وقت ان کے ہمراہ نجی ٹی وی سے منسلک صحافی ثاقب بشیر بھی موجود تھے جنھیں بعدازاں اغواکاروں کی جانب سے چھوڑ دیا گیا۔

بیٹے نے بتایا کہ انھیں اپنے والد کے اغوا کی بابت صحافی ثاقب بشیر نے صبح چار بجے کے لگ بھگ بتایا۔

ایف آئی آر کے متن کے مطابق یہ واقعہ بدھ کی رات سوا دو بجے کے لگ بھگ سیکٹر ای 9 میں ایک پولیس ناکے پر پیش آیا۔

پولیس اے ایس آئی کی مدعیت میں درج اس مقدمے میں الزام عائد کیا ہے کہ مارگلہ روڈ پر واقع ایک پولیس ناکے پر اہلکار معمول کی جانچ پڑتال کے لیے موجود تھے جب ایک انتہائی تیز رفتار گاڑی نے بیرئیر پر موجود اہلکاروں کو ’جان سے مارنے کی غرض سے‘ اُن پر اپنی گاڑی چڑھا دوڑی۔

ایف آئی آر میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس واقعے میں ایک کانسٹیبل زخمی ہوا جبکہ پولیس اہلکاروں نے بیرئیر آگے پھینک کر گاڑی کو زبردستی روک لیا جس میں سوار ڈرائیور ’حالتِ نشہ‘ میں تھا۔

ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ گاڑی کے ڈرائیور نے اُترتے ہی ایک پولیس کانسٹیبل کو زدکوب کیا، اس سے سرکاری اسلحہ چھینا اور ناکے پر موجود اہلکاروں پر تان لیا۔

ایف آئی آر میں مزید الزام عائد کیا گیا کہ پولیس نے ملزم پر قابو پایا تو معلوم ہوا وہ مطیع اللہ جان نامی بندہ تھا جس کی گاڑی کی تلاشی لی گئی تو اس میں سے 246 گرام آئس برآمد ہوئی جس کو تجزیے کے لیے لیبارٹری بھیج دیا گیا۔

ایف آئی آر کے مطابق ’ملزم نے آئس اپنے قبضے میں رکھ کر، سرکاری رائفل چھین کر، پولیس اہلکاروں کو جان سے مارنے کی غرض سے رائفل تاننے اور ناکے کے بیرئیر پر گاڑی چڑھانے اور کار سرکار میں مزاحم ہونے اور وہاں موجود لوگوں میں خوف و ہراس پھیلا کر متعدد جرائم کا ارتکارب کیا ہے۔۔۔‘

صحافی ثاقب بشیر نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ وہ بدھ کی رات گیارہ بجے کے قریب پمز ہسپتال سے نکل کر پارکنگ میں کھڑی اپنی گاڑی کی طرف جا رہے تھے جب کچھ افراد وہاں پر آئے جنھوں نے ہم دونوں کے چہروں پر کپڑا ڈالا اور زبردستی گاڑی میں ڈال کر لے گئے۔‘

ثاقب بشیر نے دعویٰ کیا کہ ’دس منٹ کی مسافت کے بعد ہم دونوں کو ایک کمرے میں بیٹھایا گیا، لیکن کپڑا منہ سے نہیں اتارا گیا۔ اِن افراد نے مجھے (ثاقب) مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے ساتھ کوئی معاملہ نہیں ہے، اس لیے ہم آپ کو کچھ نہیں کہتے۔‘

ثاقب بشیر نے مزید کہا کہ اغوا کرنے والے افراد نے انھیں تشدد کا نشانہ نہیں بنایا اور دو گھنٹے کے بعد آئی نائن کے قریب ایک ویران جگہ پر چھوڑ کر فرار ہو گئے۔

ثاقب کے مطابق وہ اور مطیع اللہ جان پی ٹی آئی کے احتجاج کے دوران مظاہرین کی مبینہ ہلاکتوں کی تصدیق کرنے کے لیے پمز گئے تھے۔ ثاقب بشیر کا کہنا تھا کہ ’جب ہم دونوں کو اغوا کرکے لے گئے، تو ہمیں ایک ہی کمرے میں بیٹھایا گیا اور ہم دونوں سے کوئی بھی سوال نہیں پوچھا گیا۔ اُن کے مطابق کمرے میں جو افراد موجود تھے وہ صرف ہم دونوں سے یہی پوچھتے رہے کہ چائے تو نہیں پینی؟ سردی تو نہیں لگ رہی؟ واش روم تو نہیں جانا؟‘

انھوں نے کہا کہ جب انھیں چھوڑنے کے لیے گاڑی کی طرف لے کر جا رہے تھے تو اس وقت کمرے میں موجود ایک شخص سے انھوں نے وقت پوچھا تو اس نے بتایا کہ اس وقت رات کے ڈھائی بج چکے ہیں۔ ثاقب بشیر کا کہنا تھا کہ وہ اس واقعہ کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کر رہے ہیں جبکہ مطیع اللہ جان کی فیملی بھی اسی عدالت سے رجوع کر رہی ہے۔

خیال رہے کہ اس سے قبل مطیع اللہ جان کو جولائی 2020 میں بھی اغوا کیا گیا تھا تاہم انھیں 12 گھنٹوں کے بعد چھوڑ دیا گیا تھا۔

Share This Article