پی ٹی آئی پر پابندی لگانے کیلئے بلوچستان اسمبلی میں قرارداد جمع

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

پاکستان کی عسکری حکام کی ایما پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) پر پابندی لگانے کیلئے بلوچستان اسمبلی میں قرارداد جمع کرا دی گئی ہے۔

یہ قرارداد بلوچستان اسمبلی کے 28 نومبر کے ایجنڈے میں شامل ہے جو کہ نواز لیگ اور پیپلزپارٹی کے آٹھ اراکین اسمبلی کی جانب سے لائی گئی ہے۔

‎قرارداد کے متن کے مطابق ’9 مئی کو ملک گیر فسادات کرنے والی جماعت پی ٹی آئی کی جانب سے ایک مرتبہ پھر پُرتشدد کارروائیاں کی جا رہی ہیں جو کہ ملک کی تاریخ میں ایک سیاسی انتشاری ٹولے کی شکل اختیار کی گئی ہے۔‘

قرار داد میں کہا گیا ہے کہ ’پی ٹی آئی کی اس قسم کی انتشاری ایجنڈے نے ملک کے ہر نظام اور مکتبہ فکر کے بشمول عدلیہ، میڈیا اور ملک کی اکانومی کو بری طرح متائثر کیا‘۔

قرارداد کے متن کے مطابق یہ ایوان سکیورٹی فورسز کو ٹارگٹ کرنے، میڈیا، وفاق پر حملہ آور ہونے اور مملکت پاکستان میں انتشار کے عمل کو فروغ دینے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے اور اپنی فورسز اور مسلح افواج ملک اور قوم کے لیے قربانیاں دینے پر خراج تحسین پیش کرتا ہے۔

قرار داد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ’ایوان ملک میں انتشار پھیلانے، افواج پاکستان اور سکیورٹی فورسز کو عوام کے ساتھ براہ راست لڑانے کی کوشش کرنے پر وفاقی حکومت پی ٹی آئی پر فوری طور پابندی لگانے کو یقینی بنائے تا کہ پی ٹی آئی کی وجہ سے ملک بھر کے عوام میں پائی جانے والی بے چینی اور تکالیف کا خاتمہ ممکن ہوسکے۔‘

واضع رہے کہ بلوچستان مکمل طور پاکستانی فوج کے زیر کنٹرول ہے ۔پاکستان بھر میں حقوق و بنیادی آزادی کے موثر آوازوں اور سیاسی مخالفین کو دبانے کیلئے ان کیخلاف مقدمات کے اندراج ، قید میں رکھنااور قوانین بنانے میں بلوچستا ن کو استعمال کیا جاتا رہاہے ۔

Share This Article