بلوچستان کے ضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت میں ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ سمیت وکلاء بار کے رہنماؤں نے عدالت سے ضمانت حاصل کرلی ہے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، وکلاء بار ایسوسی ایشن کے صدر عبدالمجید شاہ دشتی، سمیت دیگر وکلاء اور سیاسی کارکنان آج عدالت میں پیش ہوئے اور سیمینار منعقد کرنے کی پاداش میں چاک کیئے گئے ایف آئی آر کی ضمانت حاصل کر لی۔
اس موقع پر ایڈوکیٹ جاڈین دشتی، ایڈوکیٹ محراب گچکی، صبغت اللّٰہ شاہ جی، اور دیگر سینئر وکلاء و سیاسی کارکنان انکے ہمراہ تھے۔
گذشتہ روز وکلا بار رہنما حتجاجاً پولیس تھانہ میں گرفتاری دینے گئے لیکن پولیس نے گرفتار کرنے سے انکار کردیاتھا۔
کیچ بار ایسوسی ایشن کے صدر مجید شاہ ایڈووکیٹ اور دیگر وکلا محراب خان گچکی ایڈووکیٹ اور عبدالمجید دشتی ایڈووکیٹ کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کے خلاف کیچ بار ایسوسی اور مکران ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے بار روم کے سامنے مظاہرہ کیا گیا اور اس عمل کی سخت مذمت کی گئی۔
جب کہ بعدازاں وکلا نے کیچ بار ایسوسی ایشن کے صدر مجید شاہ ایڈووکیٹ، جاڈین دشتی ایڈووکیٹ اور دیگر سنیئر وکلا کے ہمراہ پولیس تھانہ تربت کے سامنے بھی احتجاج ریکارڈ کرایا اور تھانہ میں گرفتاری دینے کے لیے حاضر ہوئے تاہم پولیس نے انہیں گرفتار کرنے سے انکار کردیا۔ وکلا نے بار کے صدر سمیت سنیئر وکلا پر مقدمہ درج کرنے کے خلاف احتجاجاً کل پولیس تھانہ میں کنونشن کرنے کا اعلان کردیا ہے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی و وکلا بار رہنمائوں کیخلاف بے بنیاد مقدمات کے اندراج کیخلاف گوادر بار ایسوسی ایشن نے کیچ بار ایسوسی ایشن کے وکلاء کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کے خلاف تین دن تک عدالتوں کے بائیکاٹ کا اعلان کردیاتھا۔
گوادر بار ایسوسی ایشن نے گزشتہ دنوں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے زیراہتمام سیمینار میں شریک ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کیچ کے صدر عبد المجید شاہ ایڈووکیٹ، ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر محراب خان گچکی ایڈووکیٹ اور کیچ بار کے سنیئر وکیل عبدالمجید دشتی ایڈووکیٹ کے خلاف غلط اور بے بنیاد ایف آئی آر کے اندراج کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ گوادر میں تین دن بمورخہ 27, 28 اور 29 نومبر 2024 کو مکمل عدالتی بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا ہے۔