امریکا نے سلامتی کونسل میں غزہ میں جنگ بندی کی قرارداد پھر ویٹو کردی

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

امریکا نے غزہ میں جنگ بندی کے لیے اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی قرار داد کو ویٹو کردیا جس کے بعد ایک بار پھر بائیڈن انتظامیہ کو اسرائیل اور حماس کے درمیان تنازع روکنے کے بین الاقوامی اقدام کی راہ میں رکاوٹ بننے پر تنقید کا سامنا ہے۔

خبر رساں ادارے ’رائٹرز ’ کے مطابق 15 رکنی کونسل کے اجلاس میں 10 غیر مستقل ممبران کی جانب سے فوری، غیر مشروط، مستقل جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کی قرارداد پیش کی گئی تھی۔

امریکا نے کونسل کے مستقل رکن ہونے کی وجہ سے قرارداد کو ویٹو کرتے ہوئے مخالفت میں ووٹ دیا۔

اقوام متحدہ میں نائب امریکی سفیر رابرٹ ووڈ کا اس موقع پر کہنا تھا کہ واشنگٹن نے اس بات کو واضح کردیا ہے کہ وہ صرف اس صورت میں قرارداد کی حمایت کرے گا جب یرغمالیوں کی فوری رہائی کا مطالبہ شامل ہوگا۔

امریکی سفیر نے کہا کہ ’ہم غیر مشروط جنگ بندی کی حمایت نہیں کر سکتے، جس میں یرغمالیوں کی فوری رہائی کا مطالبہ نہ کیا جائے، اس لیے ہم نے اس قرارداد کے خلاف ووٹ دیا۔‘

رابرٹ ووڈ نے کہا کہ امریکا سمجھوتا کرنے کو تیار تھا لیکن مجوزہ قرارداد کے متن سے فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس کو ایک ’خطرناک پیغام‘ چلا جاتا کہ مذاکرات کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔’

واضح رہے کہ 7 اکتوبر 2023 کے بعد غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں تقریباً 44 ہزار کے قریب فلسطینی شہید جبکہ زیادہ تر اپنے گھروں سے محروم ہوچکے ہیں۔

Share This Article
Leave a Comment