غزہ میں  رہائشی عمارت پر اسرائیل کا فضائی حملہ، کم از کم 34 افراد ہلاک

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

فلسطینی علاقہ غزہ کے شمالی علاقے بیت لاہیہ میں پانچ منزلہ رہائشی بلاک پر اسرائیلی فضائی حملے میں کم از کم 34 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے ایجنسی کے حوالے سے بتایا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں جبکہ درجنوں افراد کے ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ہے۔

حملے میں اب تک کم از کم سات افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ حماس کو دوبارہ منظّم ہونے سے روکنے کی کوشش میں بیت لاہیہ سمیت شمالی غزہ میں عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔

شہری دفاع نے مزید کہا کہ وسطی غزہ میں پناہ گزین کیمپوں پر تین مختلف حملوں میں 15 افراد ہلاک ہوئے جبکہ جنوب میں رفح پر اسرائیلی ڈرون حملے میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوئے۔

شہری دفاع کے ترجمان محمود باسل نے کہا کہ مسلسل فائرنگ اور توپ خانے کی گولہ باری کی وجہ سے مزید زخمیوں کو بچانے کے امکانات کم ہو رہے ہیں۔

بیت لاہیا کی رہائشی عمارت میں جو کچھ بچا ہے وہ ملبے کا ڈھیر ہے، جس میں ٹوٹے ہوئے کنکریٹ اور ٹوٹی ہوئی دھات کے ٹکڑے کھنڈرات سے نکل رہے ہیں۔

ایک شخص جس کا خاندان منہدم عمارت میں رہتا تھا لیکن وہ خود کہیں اور تھا اس نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’ہم سب نے سوچا کہ موت قریب ہے۔ پورا علاقہ لرز رہا تھا۔‘

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ شمالی غزہ میں اس کی کارروائی جو جبالیہ سے شروع ہوئی اور بیت لاہیا تک پھیل گئی ہے اس میں رات گئے دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر حملے کیے گئے ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’جنگ زدہ علاقوں سے شہری آبادی کو نکالنے کے لیے مسلسل کوششیں کی جا رہی ہیں۔‘

لیکن بہت سے مقامی باشندے اپنے گھروں کو چھوڑنا نہیں چاہتے ہیں۔

محمود باسل نے کہا کہ بیت لاہیا میں مسمار کی گئی عمارت میں چھ خاندان رہتے تھے۔

علاقے کی ایک خاتون نے بی بی سی نیوز سے اپنی مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ’ہم نے آپ کے ساتھ کیا کیا ہے؟ ہم نے آپ کو کیا نقصان پہنچایا ہے؟ ہم نے کیا غلطی کی ہے؟ ہم اپنے گھروں میں رہ رہے ہیں۔آپ ہمیں باہر کیوں نکال رہے ہو؟‘

،تصویر کا کیپشناسرائیل فوک کا کہنا ہے کہ جنگ زدہ علاقوں سے شہری آبادی کو نکالنے کے لیے مسلسل کوششیں کی جا رہی ہیں۔

گذشتہ ہفتے جبالیہ میں ایک گھر پر ہونے والے حملے میں 13 بچوں سمیت کم از کم 25 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ غزہ شہر میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوئے۔

شمالی غزہ میں اسرائیل کے زمینی حملے کے نتیجے میں گزشتہ پانچ ہفتوں کے دوران ایک لاکھ تیس ہزار افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ جبالیہ، بیت لاہیا اور بیت حنون کے قصبوں میں پانی اور خوراک کی فراہمی میں کمی کی وجہ سے 75 ہزار افراد محاصرے میں ہیں۔

اس ہفتے ہیومن رائٹس واچ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ اسرائیل نے جان بوجھ کر غزہ میں فلسطینیوں کو بڑے پیمانے پر بے گھر کرکے جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق گذشتہ ایک سال کے دوران غزہ کی 90 فیصد آبادی یعنی 19 لاکھ افراد اپنے گھر بار چھوڑ کر جا چکے ہیں اور 79 فیصد علاقے اسرائیل کی جانب سے جاری کردہ انخلا کے احکامات کی زد میں ہیں۔

Share This Article
Leave a Comment