بی ایم سی سے طلبا و طالبات کو زبردستی بے دخل کرنا انہیں تعلیم سے دور رکھنے کی پالیسی ہے، سمی بلوچ

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنمااور وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے سیکر ٹری جنرل سمی دین بلوچ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ایک پوسٹ میں بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ میں بولان میڈیاکل کالج کے طلبا وطالبات کو زبردستی ہاسٹلز و کالج سے نکالنے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ بولان میڈیکل کالج میں طلبا و طالبات کو زبردستی بے دخل کرنا، ان پر طاقت کا استعمال اور تشدد کرنا نوجوانوں کو تعلیم سے دور رکھنے کی ایک واضح پالیسی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بی ایم سی میں طلبا و طالبات تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں، پروفیسرز انہیں پڑھانا چاہتے ہیں، لیکن مسئلہ صرف انتظامیہ کو ہے، جس نے اپنا قانون لاگو کیا ہے جنہیں اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ وہ نوجوانوں کی تعلیم سے کس طرح کھیل رہی ہے۔ جان بوجھ کر خوف کا ماحول پیدا کیا جا رہا ہے تاکہ نوجوان اپنی تعلیمی اور قومی ذمہ داریوں سے دور رہیں۔

انہوںنے کہا کہ ایسے تجربات بلوچستان میں دہائیوں سے مختلف وقفوں میں کیے جا رہے ہیں۔

واضع رہے کہ گذشتہ دنوں اسٹیبلشمنٹ نے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت بولان میڈیکل کالج میں بلوچ اور پشتونوں کو لڑایا اور بعد ازاں اسے ایک سیکورٹی ایشو بناکر انہیں ہاسٹل خالی کرنے کو کہا گیا جس پر آل بلوچستان طلبا کی جانب سے شدید ردعمل آیا ، پریس کانفرنس واحتجاجی مظاہرے کئے گئے ۔

لیڈیز پولیس کو گرلز ہاسٹل میں تعینات کردیا گیا اور طالبات کو ہراساں کیا جارہا ہے تاکہ بوائز ہاسٹلز کی طرح گرلز ہاسٹلز کو بھی خالی کرایا جاسکے۔

Share This Article
Leave a Comment