بلوچستان میں طلبا مسلسل ریاستی تشدد کا شکار ہیں، ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچ یکجہتی کمیٹی کے سربراہ و انسانی حقوق کے سرگرم و متحرک کارکن ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے سو شل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے کوئٹہ کے بی ایم سی گرلز ہاسٹل میں پولیس کی تعیناتی و طالبات کو ہراساں پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بولان میڈیکل کالج میں پولیس طالبات کو زبردستی ہاسٹل خالی کرانے کے لیے مسلسل ہراساں کر رہی ہے اور انہیں حراست میں لینے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں تعلیمی اداروں کو فوجی چھاؤنیوں میں تبدیل کرنے کی شدید مذمت کرتے ہیں۔

انہوںنے کہا کہ بولان میڈیکل کالج میں پولیس طالبات کو زبردستی ہاسٹل خالی کرانے کے لیے مسلسل ہراساں کر رہی ہے اور انہیں حراست میں لینے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔

ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کا کہنا تھا کہ گزشتہ دو دنوں سے لڑکوں کے ہاسٹلز کو سیل کر دیا گیا ہے۔ بلوچستان میں طلباء مسلسل ریاستی تشدد کا شکار ہیں۔ ایک جانب بلوچستان بھر میں طلباء کی جبری گمشدگیوں کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور دوسری جانب تعلیمی اداروں کے ہاسٹلز کو بند کرنا اور طلباء کو بے دخل کرنا، گرفتار نوجوانوں کے حوالے سے ریاست کے رویے کی واضح عکاسی کرتا ہے۔

Share This Article
Leave a Comment