لبنان انتظامیہ کے مطابق بیروت کے جنوب میں اسرائیلی فضائی حملے کا نشانہ بننے والی کثیر منزلہ عمارت کے ملبے سے 30 افراد کی لاشیں ملی ہیں۔
جنوبی بیروت میں منگل کے روز اسرائیلی فضائی حملے میں سنی اکثریتی ساحلی قصبے برجا میں چار منزلہ عمارت کا ایک حصہ تباہ ہو گیا تھا جس میں مبینہ طور پر بے گھر افراد رہائش پذیر تھے۔ عمارت پر حملے کے بعد اس میں آگ بھڑک اُٹھی تھی۔
لبنان کی وزارت صحت کی جانب سے منگل کی رات اسرائیلی حملے کے بعد جاری ہونے والے ایک بیان میں 20 افراد کی ہلاکت کی خبر سامنے آئی تھی۔ تاہم اسی کے ساتھ اس خدشے کا اظہار بھی کیا گیا تھا کہ ہلاکتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ انھوں نے شیعہ مسلح گروپ حزب اللہ سے تعلق رکھنے والے ’عسکریت پسندوں‘ کے زیرِ استعمال عمارت کو نشانہ بنایا ہے۔
جس عمارت کو نشانہ بنایا گیا اُس کی بچ جانے والی بالائی منزلوں میں سے ایک کے رہائشی موسیٰ زہران نے بتایا کہ ان کا بیٹا اور اہلیہ اس حملے میں شدید زخمی ہوئے ہیں۔
انھوں نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ ’اس عمارت میں لگے پتھروں کا وزن 100 کلو گرام سے بھی زیادہ ہے، اور یہ پتھر میرے 13 کلو کے معصوم بیٹے پر گرے۔ میں نے اپنی مدد آپ کے تحت ان پتھروں کو ہٹایا اور پہلے اپنے بیٹے کو اور بعد میں اپنی اہلیہ کو ان کے نیچے سے نکالا۔ ان دونوں کا بچ جانا کسی معجزے سے کم نہیں۔‘
آئرش ٹائمز کے نامہ نگار نے موقع پر موجود سول ڈیفنس کے ایک رکن کے حوالے سے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں سات خواتین اور تین بچے شامل ہیں جن میں سات ماہ کا بچہ اور سات اور بارہ سال کی دو بچیاں شامل ہیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی فضائی حملے کا نشانہ بننے والی عمارت کے پڑوس میں رہنے والے لوگوں نے یہ بھی بتایا کہ اس عمارت میں بے گھر افراد کو رکھا گیا تھا جو دوسرے علاقوں سے نقل مکانی کر کے یہاں ایک محفوظ مقام کی تلاش میں آئے تھے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق حملے سے قبل انخلا کی کوئی انتباہ جاری نہیں کی گئی تھی۔