بلوچستان کے ضلع کیچ کے ایران سے متصل سرحدی علاقے مند کے گاؤں مہیر کی خواتین کا آبادی کے اندر فورسز کی چیک پوسٹ کے قیام کے خلاف احتجاج جاری ہے ۔
خواتین نے سورو مند سے ایران جانے والی شاہراہ بلاک کردی۔
اسسٹنٹ کمشنرتمپ نے مند آکر خواتین کے ساتھ مذاکرات کئے جو ناکام رہے۔
خواتین نے کیمپ لگالیا ہے ، احتجاج دھرنے کی شکل میں جاری ہے۔
احتجاج کرنے والی خواتین کاکہنا ہے کہ آبادی کے اندر چیک پوسٹ خالی کیاجائے۔
احتجاجی مظاہرے میں بچوں اور خواتین سمیت لوگوں کی بڑی تعداد شریک ہے۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ پاکستانی فوج کا ہمارے گھر پر قبضہ ہے وہ اٹھنے کا نام نہیں لے رہے، اب ہم مزید صبر نہیں کر سکتے۔
ان کا کہنا تھا کہ پہلے ہمارے گھر پر قبضہ کیا گیا اور اب گھر کے سامنے والی زمین سمیت دیگر جگہوں پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
مظاہرین سے مقامی انتظامیہ کے علاوہ زبیدہ جلال کی بہن رحیمہ جلال اور دیگر ملاقات کرکے احتجاج ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔
تاہم مظاہرین کا کہنا ہے کہ جب تک پاکستانی فوج ہمارے گھروں سے نہیں نکلتی ہم یہیں رہیں گے۔انہوں نےعلاقے کے لوگوں اور بلوچوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ہمارے ساتھ دیں اور ریاستی تشدد کے خلاف آواز بلند کریں۔