بساک کا بلوچ جبری گمشدگیوں کیخلاف طلبا و عوام سے مزاحمت کی اپیل

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

بلوچ اسٹوڈنٹس ایکش کمیٹی (بساک ) نے بلوچ جبری گمشدگیوں کے خلاف طلبا اور عوام سے مزاحمت کی اپیل کی ہے ۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ایک جاری پوسٹ میں تنظیم کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیاں پچھلے تین دہائیوں سے جاری ہیں جن میں ہزاروں لوگ اس انسانیت سوز مظالم کا شکار ہوئے ہیں جن میں کئی خوش قسمت لوگ ان تاریک قیدخانوں سے نکلنے میں کامیاب ہوئے، کئی مسخ شدہ ہو کر گلزمین کے باہوٹ ہوئے اور ہزاروں کی تعداد میں آج بھی بلوچ نوجوان، طالبعلم، سیاسی و سماجی کارکنان، وکلاء، اساتذہ سمیت زندگی کے ہر طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگ اس ظلمت کا شکار ہیں۔ کوئی ایسا گھرانہ، قبیلہ، گلی محلہ، شہر کوچہ بلوچستان میں نہیں جہاں اس جبر سے لوگ واقف نہ ہوں۔

انہوں نے کہا کہ اس تمام تر جبر جو طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہوا وہ آپ کے ہم عصر نوجوان ہوئے ہیں۔ انہی سکول، کالج اور یونیورسٹیوں میں پڑھنے والے آپ جیسے طلبا سالوں سے کال کوٹھڑیوں میں قید ہیں، آپ کا ایک پورا نسل جو سیاسی شعور رکھتا تھا زندانوں کے نذر ہوا یا مسخ شدہ ہوکر ویرانوں میں پھینکا گیا۔ اس اذیت سے آپ سبھی نہ صرف واقف ہیں بلکہ اس کرب سے گزر رہے ہیں کہ کب، کہاں، کون اس جبر کا شکار ہو، اس غیریقینی کیفیت سے صرف آپ نہیں بلکہ بلوچستان کا ہر ایک طبقہ گزر رہا ہے۔ سہیل اور فصیح آپ ہی کی طرح یونیورسٹی میں زیرتعلیم تھے جو آج سے تین سال قبل بلوچستان یونیورسٹی کے ہاسٹل سے جبری گمشدگی کا شکار ہوئے اور آج تک ان کا کوئی سراغ ان کے ساتھیوں یا خاندان کو مہیا نہیں کیا گیا۔

بیان میں کہا گیا کہ بلوچ قوم بالخصوص بلوچ نوجوانو، اس جبر کا حل خاموشی میں ہرگز نہیں بلکہ اس کے خلاف مزاحمت ہی میں بقا ہے۔ جبری گمشدگیوں کا مقصد بلوچ معاشرے کو تاریکیوں میں دکھیل کر ایک ایسا معاشرہ تشکیل دینا ہے جہاں سوال جواب نہ ہو، جہاں ساحل وسائل، بلوچ او بلوچیت، اور بلوچستان کا نام لینے والا کوئی نا ہو، جہاں ایک اپاہج سماج ہو جس کی وسائل کی لوٹ کھسوٹ، قومی شناخت کا خاتمہ بغیر کسی مزاحمت کے کیا جاسکے، اس لئے سوال اٹھائیں، آواز اٹھائیں، اور ان لوگوں کے ساتھ ہمگام ہوجائیں جو آپکی طرح اس جبر کے خلاف سراپا مزاحمت ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سہیل اور فصیح بلوچ کی بازیابی کیلئے بلوچستان یونیورسٹی کوئٹہ میں دوروزہ دھرنا کیمپ لگانا اور دوسرے شہروں میں ریلی نکالنا سمیت سوشل میڈیا پہ کیمپن چلائی جائے گی۔ آئیں اپنے طلبا کیلیے آواز اٹھائیں، دھرنے میں شرکت کریں، کیمپین کا حصہ بنیں اور اپنے معاشرے کو رہنے کے قابل بنائیں جہاں ہر انسان بنا کسی خوف و ڈر کے زندگی گزار سکے۔

Share This Article
Leave a Comment