بلوچ یکجہتی کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ایک پوسٹ میں بی این پی قیادت کے خلاف ریاستی جارحیت کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح اختر مینگل اور ان کے بی این پی سینیٹرز کے ساتھ ناروا سلوک کیا گیا اور انہیں 26ویں آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ دینے پر مجبور کیا گیا۔
اور اب انہیں پولیس کے جعلی مقدمات میں پھنسایا جا رہا ہے، جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان میں پارلیمانی سیاست یا پرامن سرگرمی کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ نہ اختر مینگل اور نہ ہی ہم جیسے پرامن کارکن ہتھیار اٹھا رہے ہیں اور نہ بندوق ،پھر بھی ریاست کا سلوک ظالمانہ ہے۔ میں بی این پی کی قیادت کے خلاف اس ریاستی جارحیت کی مذمت کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ اختر مینگل اس بے اختیار اور ریڑھ کی ہڈی والی پارلیمنٹ پر اپنے عوام کے ساتھ کھڑے ہونے کا انتخاب کریں گے۔
انہوںنے مزید کہا کہ میں بی این پی قیادت کے خلاف غیر قانونی اقدامات کی مذمت کرتا ہوں۔
خیال رہے کہ اخترمینگل اور بی این کے رہنماؤں کے خلاف دہشت گردی اور تعزیرات پاکستان کی مختلف دفعات کے تحت تھانہ سیکریٹریٹ، اسلام آباد میں مقدمہ درج ہے۔