بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان جیئند بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ اپنے ایک پریس ریلیز میںبلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ میں ایم آئی آلہ کار زیب قمبرانی کو ہلاک کرنے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے گذشتہ شب کوئٹہ شہر میں ایک کارروائی میں پاکستانی خفیہ ادارے ملٹری انٹیلی جنس (ایم آئی) کے اہم کارندے میر زیب قمبرانی ولد احمد یار خان قمبرانی کو ہلاک کردیا۔
انہوںنے کہا کہ ریاستی کارندہ زیب قمبرانی طویل عرصے سے قابض پاکستانی فوج کے پیرول پر بطور ایک مخبر و آلہ کار کام کررہا تھا۔ مذکورہ آلہ کار پاکستانی فوج و خفیہ اداروں کے نام نہاد ڈیتھ اسکواڈ کے سرغنہ سراج رئیسانی کیساتھ بھی منسلک رہا ہے جبکہ کوئٹہ سمیت مستونگ میں قابض فوج کیلئے لوگوں کو بھرتی کرنے میں ملوث رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مخبر و آلہ کار زیب قمبرانی گھروں پر چھاپوں، چادر و چاردیواری کو پامال کرنے اور بلوچ نوجوانوں کو جبری لاپتہ کرنے میں قابض فوج کی معاونت میں براہ راست ملوث تھا، جبکہ عام بلوچوں کو دھمکا کر ان سے بھتہ وصول کرنے میں بھی ملوث تھا، جس کی چھوٹ قابض فوج نے اس کو دے رکھی تھی۔
بیان میں کہا گیا کہ رواں مہینے کی دس تاریخ کو بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے ایک اور کارروائی میں مستونگ کے علاقے اسپلنجی مَرو سے ملنگ کے بھیس میں قابض پاکستانی فوج کے ایک مخبر مجیب الرحمان ولد عبدالرحمان کو حراست میں لیا تھا، جس نے دوران تفتیش انکشاف کیا کہ پاکستانی خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے اس کی ملاقات زیب قمبرانی سے کروائی تھی، جس کے بعد وہ زیب قمبرانی کی سرپرستی میں مخبری کا کام سرانجام دے رہا تھا۔
جیئند بلوچ کا کہناتھا کہ مذکورہ آلہ کار نے اعتراف کیا تھا کہ زیب قمبرانی کی سرپرستی میں اس نے سلمان قمبرانی اور گزین قمبرانی کی مخبری کرکے انہیں جبری لاپتہ کروایا اور بعدازاں ان کو جعلی مقابلے میں شہید کیا گیا۔
انہوںنے کہا کہ زیب قمبرانی کو بلوچ قومی غداری کے مرتکب ہونے پر بلوچ قومی عدالت نے سزائے موت سنائی تھی، جس پر گذشتہ شب بلوچ لبریشن آرمی نے عمل درآمد کیا۔