رکن بلوچستان اسمبلی عبید اللہ گورگیج کی کامیابی کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے حلقہ پی پی44 سے رکن بلوچستان اسمبلی عبید اللہ گورگیج کو ڈی سیٹ کر دیا۔

عبید اللہ گورگیج پی بی 44 کوئٹہ سے ایم پی اے تھے۔

قبل ازیں بلوچستان ہائی کورٹ کے الیکشن ٹریبونل نے عبیداللہ گورگیج کے خلاف انتخابی عزرداری کیس میں فیصلہ دیا تھا۔

بلوچستان ہائی کورٹ کے الیکشن ٹربیونل نے بلوچستان اسمبلی کے حلقہ پی بی 44 کے 16 پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ انتخابات کا حکم دیا تھا۔

الیکشن ٹربیونل کی جانب سے پی بی 44 کا فیصلہ سنائے جانے کے بعد پیپلز پارٹی کے عبیداللہ گورگیج رکن بلوچستان اسمبلی نہیں رہے ۔

عبیداللہ گورگیج کی کامیابی کو نیشنل پارٹی کےعطا محمد بنگلزئی نے چیلنج کیا تھا۔

واضح رہے کہ 8 فروری 2024 کے متنازع الیکشن میں پیپلزپارٹی کے عبید اللہ گورگیج 7ہزار 125 ووٹ لے کر بلوچستان اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے جبکہ ان کےمدمقابل نیشنل پارٹی کے عطا محمد بنگلزئی نے 6 ہزار 385 ووٹ حاصل کیے تھے۔

بعدازاں، نیشنل پارٹی کے عطا محمد بنگلزئی نے بلوچستان ہائی کورٹ میں آئینی درخواست دائر کرتے ہوئے عبید اللہ گورگیج کی کامیابی کو چیلنج کیا تھا۔

انہوں نے درخواست میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ فارم 45 کے نتائج میں وہ کامیاب قرار پائے تھے، تاہم فارم 47 میں دھاندلی کرکے عبیداللہ گورگیج کامیاب قرار دے دیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ بلوچستان سمیت پاکستان کی مرکز اور دیگر صوبوں میں پاکستانی فوج وآئی آیس آئی نے عوام کی مینڈیت چوری کرکے اپنے لوگوں کو جتوایا تھا۔اور اب مرکزسمیت تمام صوبوں کی حکومتوں کوفارم 47 کی حکومتوں کے نام سے پکارا جاتا ہے۔

Share This Article
Leave a Comment