غزہ کے وسطی علاقے میں بے گھر فلسطینیوں کو پناہ دینے کے لیے استعمال ہونے والے ایک سکول پر اسرائیلی حملے میں کم از کم 15 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
حماس کے زیرِ انتظام سول ڈیفنس ایجنسی کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اتوار کے روز نصرات کیمپ کے مقام پر توپ خانے سے حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے۔
تاہم اسرائیل کی دفاعی افواج کی جانب سے کہا گیا ہے کہ وہ سکول پر ہونے والے اس حملے سے متعلق سامنے آنے والی اطلاعات کا جائزہ لے رہا ہیں۔
اس سے قبل شمالی غزہ میں ایک سڑک کنارے کھیلتے پانچ بچے اسرائیلی افواج کے ڈرون حملے میں ہلاک ہو گئے تھے۔
شہری دفاع کے ایک ترجمان نے کہا کہ المفتی سکول پر حملے میں کم از کم 50 افراد زخمی ہوئے اور ایک درجن سے زیادہ ہلاک ہوئے۔
حالیہ دنوں میں غزہ کا شمالی علاقہ سب سے زیادہ جنگ سے متاثر ہوا ہے، جہاں اسرائیلی افواج ایک بڑے زمینی آپریشن کے حصے کے طور پر ایک ہفتے سے زیادہ عرصے سے حملوں میں اضافہ کر رہی ہیں۔ غزہ کے حکام کا کہنا ہے کہ اب تک سیکڑوں افراد ان زمینی کارروائیوں میں ہلاک ہو چکے ہیں۔
بیت حنون، جبالیہ اور بیت لہیا کے رہائشیوں نے بتایا ہے کہ ان کا غزہ شہر سے رابطہ منقطع ہے جبکہ علاقے کے سب سے بڑے شہر کے مضافات میں اسرائیلی ٹینک دیکھے گئے ہیں۔
علاقے کے ہسپتالوں میں اشیائے ضروریہ کی قلت ہے تاہم عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ ریڈ کراس کے ساتھ مشترکہ آپریشن کے نتیجے میں نو دن کی کوششوں کے بعد کُچھ ہسپتالوں تک ادویات اور دیگر ضروری اشیا پہنچائی گئی ہیں۔
حماس کے زیر انتظام وزارت صحت نے گزشتہ ایک سال کے دوران 42 ہزار سے زیادہ افراد کے ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔
تاہم غزہ کی 24 لاکھ کی آبادی میں سے تقریبا 19 لاکھ افراد جنگ کی وجہ سے بے گھر ہو چکے ہیں۔