بھارتی ریاست مہاراشٹر کے ایک سینیئر سیاست دان اور سابق وزیر بابا صدیقی کو ملک کے مالیاتی مرکز اور ریاستی دارالحکومت ممبئی میں قتل کر دیا گیا۔
مقتول کی بالی وڈ کے اداکاروں کے ساتھ دوستیاں مشہور تھیں۔
ممبئی سے اتوار 13 اکتوبر کو موصولہ رپورٹوں کے مطابق 66 سالہ ضیاالدین صدیقی، جو بابا صدیقی کے نام سے مشہور تھے، کو ہفتے کی شام ممبئی میں ان کے بیٹے کے دفتر کے باہر فائرنگ کر کے قتل کیا گیا۔ انہیں سینے میں کئی گولیاں لگی تھیں۔
مہاراشٹر کے اس نامور سیاست دان کا قتل ایک ایسے وقت پر کیا گیا، جب بھارت کی اس ریاست میں چند ہفتوں بعد علاقائی پارلیمانی انتخابات ہونے والے ہیں اور ریاستی پولیس جرائم پیشہ افراد کے ایک بدنام لیکن منظم گروہ کے خلاف اپنی چھان بین بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔
بھارت کے میڈیا کے مطابق ملک کی اقلیتی مسلم آبادی سے تعلق رکھنے والے بابا صدیقی نہ صرف ریاست مہاراشٹر کے ایک سابق وزیر تھے بلکہ وہ موجودہ ریاستی اسمبلی کے رکن بھی تھے۔
بابا صدیقی ہی کی سیاسی پارٹی سے تعلق رکھنے والے مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار نے اس قتل پر گہرے صدے کا اظہار کرتے ہوئے اسے ایک بردلانہ حملہ‘ قرار دیا ہے۔
بھارتی روزنامے ہندوستان ٹائمز کے مطابق پولیس نے بابا صدیقی پر فائرنگ کرنے والے دو مشتبہ ملزموں کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ تیسرے ملزم کی تلاش جاری ہے۔
جبکہ بھارتی نشریاتی ادارے این ڈی ٹی وی نے بتایا ہے کہ دونوں زیر حراست مشتبہ ملزمان نے اعتراف کیا ہے کہ ان کا تعلق جرائم پیشہ افراد کے ایک ایسے گروہ سے ہے، جس کا سرغنہ لارنس بشنوئی ہے، جو اس وقت جیل میں ہے۔
لارنس بشنوئی پر الزام ہے کہ وہ پیشہ ور مجرموں کے ایک ایسے گینگ کا سربراہ ہے، جو اب تک کئی افراد کو باقاعدہ ہدف بنا کر ہلاک کر چکا ہے۔
دوسری جانب آج لارنس بشنوئی گینگ نے بابا صدیقی کی قتل کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق بشنوئی گینگ نے بابا صدیقی کے قتل کی ذمہ داری ایک سوشل میڈیا پوسٹ کے ذریعے قبول کی اور کہا کہ انہوں نے سلمان خان اور انڈر ورلڈ ڈان داؤد ابراہیم سے قربت اور دوستی کی وجہ سے بابا صدیقی کو قتل کیا۔
نیوز ایجنسی اے ایف پی نے لکھا ہے کہ بابا صدیقی کو آئندہ چند ہفتوں بعد ہونے والے ریاستی پارلیمانی انتخابات کے تناظر میں کئی مرتبہ جان سے مار دیے جانے کی دھمکیاں ملی تھیں اور حال ہی میں ان کی حفاظت کے لیے سرکاری سکیورٹی انتظامات میں اضافہ بھی کر دیا گیا تھا۔
بابا صدیقی مہاراشٹر کی صرف ایک سینیئر سیاسی شخصیت ہی نہیں تھے بلکہ وہ سماجی طور پر بھی بہت معروف تھے۔ ان کے بالی وڈ کہلانے والی ممبئی کی فلمی دنیا کی کئی انتہائی اہم شخصیات کے ساتھ بہت قریبی روابط تھے اور وہ بہت شان و شوکت والی بڑی بڑی پارٹیوں کی میزبانی کے لیے بھی مشہور تھے۔