بلوچستان کے علاقے آواران ،قلعہ عبداللہ اور قلات میں فائرنگ ودیگر واقعات میں لیویز اہلکار وخاتون سمیت 3 افراد ہلاک ہوگئے جبکہ 2 لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔
ضلع آواران میںجمعہ کی سہ پہرچار بجے کے قریب سب تحصیل گیشکور کے علاقے زیک مہراب بازار پولیس ایریا میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے لیویز اہلکار نور بخش ولد عبد الحق ساکن زیک عیسیٰ بازار گیشکور ہلاک ہو گیا۔
مذکورہ شخص کے بارے میں بتایا جارہا ہے اس کا تعلق پاکستانی خفیہ ایجنسیوں سے تھا۔
خیال رہے کہ مذکورہ شخص پہ یہ بھی الزام ہے جس نے گذشتہ سال ایک خاتون ٹیچر نجمہ کو بلیک میل کرکے خودکشی کرنے پہ مجبور کیا تھا۔
نجمہ بلوچ کی خودکشی کے بعد سماجی حلقوں میں شدید مخالف اور احتجاج کے بعد حکام نے مذکورہ شخص کو پہلے گرفتار کیا تاہم بعدازاں اس کو چھوڑ دیا، آج مسلح افراد نے فائرنگ کرکے اس کو ہلاک کردیا۔
انتظامیہ نے لاش ضروری کارروائی کے بعد ورثاء کے حوالے کر دیا۔
دوسری جانب آواران پیراندر میں دو افراد کی لاش برآمد ہوئی ہیں۔
برآمد لاشوں میںایک کی شناخت عادل ولد نواب ساکن زیارت ڈن آواران سے ہوئی جبکہ دوسرے کی شناخت نہ ہو سکی۔
جمعہ کی شام کو آواران لیویز کو اطلاع ملی کہ آواران کے علاقے پیراندر سورک ندی میں دو نامعلوم افراد کی لاشیں پڑی ملی ہیں۔
آواران لیویز نے بھاری لیویز نفری کے ہمراہ جائے وقوع پر پہنچ کر لاشوں کو ڈی ایچ کیو ہسپتال آواران پہنچایا جہاں ایک لاش کی شناخت عادل ولد نواب ساکن زیارت ڈن آواران سے ہوئی۔ جبکہ دوسرے کی شناخت نہ سکی جس کو شناخت کے لیے ہسپتال میں رکھا گیا ہے۔
دریں اثنا قلعہ عبداللہ کے علاقے گلستان عبدالرحمن زئی میں فائرنگ کا واقعہ پیش آیا۔
عرفان اللہ نامی شخص نے معمولی تکرار پر فائرنگ کرکے خاتون سمیت ایک شخص کو ہلاک اور 2 افراد زخمی کردیا۔
لیویز کے مطابق واقعہ کی اطلاع ملتے ہی لیویز موقع پر پہنچ گئی۔ اورملزم کوآلہ قتل سمیت گرفتار کرکے تھانہ منتقل کردیا گیا ۔
جبکہ ہلاک اور زخمی ہونے والے افراد کوہسپتال منتقل کردیاگیا۔
علاوہ ازیں قلات کے علاقہ گزک میں بر وقت ایمبولینس نہ ہونے کی وجہ سے ایک المناک واقعہ گزگ کےراستے سے آتے ہوئے حاملہ خاتون راستہ میں دم توڑگئی۔
ذرائع کے مطابق اگر بر وقت گزگ میں ایمبولینس ہوتی تو یہ واقعہ رونما نہیں ہوتا۔
عوامی حلقوں نے قلات کے وزیراعلی بلوچستان سیکرٹری صحت ڈپٹی کمشنر قلات اور ڈی ایچ او قلات سے گزارش کی ہے کہ خدارا گزگ کے عوام پر رحم کرے ایسے واقعات پہلے بھی رونما ہوئے ہیں ڈی سی اس کے اوپر فوری نوٹس لیں پہلے بھی ایک حاملہ خاتون ایمبولینس نہ ہونے کی وجہ سے راستےمیں دم توڑ دی تھی۔