بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ اپنے ایک پریس ریلیز میں کہا ہے کہ گومازی میں آپریشن میں مصروف پاکستانی فورسز پر حملے میں 4 اہلکار ہلاک اور دو زخمی کیے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ سرمچاروں نے گزشتہ شام پانچ بجے تمپ کے علاقے گومازی میں پاکستانی فوج کے دستوں پر اس وقت گھات لگا کر شدید حملہ کیا جب فوجی اہلکار ایک ناکام عسکری آپریشن کے بعد اپنے مورچوں کی جانب واپس لوٹ رہے تھے۔ پاکستانی فوج گزشتہ دو دنوں سے تمپ کے دشوار گزار پہاڑی سلسلوں میں ایک وسیع تر آپریشن میں مشغول تھی لیکن سرمچاروں نے جنگی مہارت اور بہترین گوریلا حکمت عملی کا مظاہرہ کرتے ہوئے گھات لگا کر نہایت مہارت سے دشمن کو نشانہ بنایا۔
انہوںنے کہا کہ سرمچاروں کے شدید حملے میں چار دشمن فوجی اہلکار موقع پر ہلاک جبکہ دو شدید زخمی ہوئے۔
بیان میں کہا گیا کہ سرمچار اپنی جنگی مہارت اور سرعتِ عمل کے باعث حملے کے بعد فوراً ہی بحفاظت محفوظ مقام پر منتقل ہو گئے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی افواج نے بلوچستان میں اپنے عسکری آپریشنز کے دوران اربوں روپے کی سرمایہ کاری کی ہے اور جدید ترین عسکری آلات اور ٹیکنالوجی سے لیس ہیں، تاہم اس کے باوجود وہ سرمچاروں کے سامنے مسلسل نفسیاتی شکست سے دوچار ہو رہی ہیں۔ سرمچاروں کی غیر روایتی جنگی حکمت عملی، جدید ہتھیاروں اور ٹیکنالوجی کے سامنے بھی پاکستانی فوج کو مفلوج کر چکی ہے۔
گھرام بلوچ نے مزید کہا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) نہ صرف عسکری محاذ پر بلکہ انٹیلیجنس اور سماجی محاذوں پر بھی بھرپور انداز میں متحرک ہے، اور ایک مضبوط عوامی حمایت کی حامل تنظیم بن چکی ہے۔ بی ایل ایف کی کامیاب جنگی کارروائیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ اس نے نہ صرف دشمن کے دل میں خوف پیدا کیا ہے بلکہ عوام کے دلوں کو بھی فتح کرنے میں مکمل کامیابی حاصل کی ہے۔ تنظیم کی عوامی مقبولیت اور اس کی حکمت عملی کی کارآمدی روز افزوں کامیاب حملوں میں بخوبی نظر آتی ہے، جو اسے ایک غیر معمولی اور ناقابل شکست عوامی مزاحمتی قوت کے طور پر مستحکم کر چکی ہے۔
انہوںنے کہا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتی ہے اور پاکستانی فوج کے مکمل انخلاء تک کاروائی سر انجام دینے کا عزم کرتی ہے۔