بھارت : کشمیر میں فاروق عبداللہ کی نیشنل کانفرنس کو برتری حاصل

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کے انتخابی نتائج میں کشمیر کی سب سے پرانی سیاسی جماعت نیشنل کانفرنس کو دہائیوں بعد صوبائی اسمبلی میں ملنے والی برتری کو خطہ کشمیر سے متعلق انڈین وزیراعظم نریندر مودی کے ’سیاسی بیانیے کی شکست‘ سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔

اِن انتخابات میں فاروق عبداللہ اور عمرعبداللہ کی نیشنل کانفرنس نے راہل گاندھی کی انڈین نیشنل کانگریس کے ساتھ انتخابی اتحاد کیا تھا۔

نیشنل کانفرنس اپنے بل بوتے پر 40 سے زیادہ سیٹوں پر فتح حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی جبکہ کانگریس چھ سیٹیں جیت پائی۔

اس طرح 90 سیٹوں پر مشتمل جموں کشمیر اسمبلی میں نیشنل کانفرنس اور کانگریس کے اتحاد نے واضح اکثریت حاصل کی ہے۔

دوسری جانب بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے جموں کے میدانی اور پہاڑی علاقوں میں 29 سیٹیں حاصل کی ہیں۔

انتخابی نتائج سامنے آنے کے بعد وزیراعظم نریندر مودی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پراپنے سلسلہ وار پیغامات میں بی جے پی کی کارکرگی کو سراہتے ہوئے الیکشن میں بھاری عوامی شرکت پر اطمینان کا اظہارکیا ہے۔

انھوں نے نیشنل کانفرنس کو اسمبلی میں برتری حاصل کرنے پر مبارکباد بھی دی ہے۔

واضح رہے کہ اگست 2019 میں آرٹیکل 370 کے خاتمے اور جموں کشمیر کو مرکزی انتظام والا خطہ بنانے کے بعد کشمیر میں پہلی مرتبہ الیکشن ہوئے ہیں۔

اِن انتخابات کی خاص بات یہ تھی کہ وزیراعظم نریندر مودی اور اُن کی پارٹی کے رہنما پہلی مرتبہ ہندو چیف منسٹر بنانے اور جموں کشمیر میں اقتدار حاصل کرنے کے مسلسل دعوے کر رہے تھے۔

Share This Article
Leave a Comment