بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ اپنے ایک پریس ریلیز میں مند میں پاکستانی فورسز پر حملے میں 2 اہلکاروں کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ سرمچاروں نے پانچ اکتوبر بروز ہفتہ شام پانچ بجے کیچ کے علاقے مند چکاپ میں قائم قابض پاکستانی فوج کے مرکزی کیمپ کی چوکی کو دو اطراف سے بھاری و جدید ہتھیاروں سے نشانہ بنایا۔
انہوںنے کہا کہ اس حملے میں بی ایل ایف کے اسنائپر شوٹر نے پہلے دشمن کے دو اہلکاروں کو نشانہ بناکر ہلاک کر دیا۔ اس کے بعد سرمچاروں نے پندرہ منٹ تک چوکی کو جدید و بھاری ہتھیاروں سے نشانہ بنایا جس کی زد میں آنے سے مزید فوجی اہلکاروں کو جانی نقصان اٹھانا پڑا۔
بیان میں کہا گیا کہ اس حملے میں دشمن کی چوکی کا ایک حصہ مکمل طور پر تباہ ہوگیا۔ دشمن اپنے شکست چھپانے کے لئے اپنے ہلاک اور زخمی ہونے والے فوجی اہلکاروں کی شناخت چھپانے کی ناکام کوشش کررہا ہے تاکہ فورسز کا مورال بحال رہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ حملے کے بعد حواس باختہ دشمن نے پہاڑی علاقوں میں مارٹر فائر کیے اور سرمچاروں کا تعاقب کرنے کی کوشش کی لیکن سرمچار بحفاظت محفوظ مقام کی جانب منتقل ہوگئے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ بی ایل ایف عوامی تنظیم ہے اور بی ایل ایف کی ہر کاروائی مکمل منصوبہ بندی اور خفیہ محکمے کی مکمل چھان بین کے بعد ہی کی جاتی ہے تاکہ موثر و منظم کاروائیوں کے ذریعے دشمن کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچے اور ذہنی و نفسیاتی دباؤ میں مزید اضافہ ہوں اور یہ حکمت عملی گوریلا جنگ کا حسن ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتی ہے اور آزاد بلوچستان کے حصول تک دشمن فورسز کو نشانہ بناتی رہیگی۔