بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ اپنے ایک پریس ریلیز میں نوشکی، تربت اور زامران حملوں میں پاکستانی فوج کے 4 اہلکاروں کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ سرمچاروں نے نوشکی، تربت اور زامران میں تین مختلف حملوں میں دشمن کے چار اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی کئے۔
انہوںنے کہا کہ سرمچاروں نے یکم اکتوبر بروز منگل شام سات بجے نوشکی کے علاقے زرین جنگل میں قائم قابض فورسز کے کیمپ کو راکٹ لانچروں اور دیگر جدید ہتھیاروں سے شدید حملے میں نشانہ بنایا جس سے فورسز کے کیمپ کے سامنے کا حصہ مکمل طور پر تباہ ہوگیا۔ حملے کی زد میں آنے سے تین فوجی اہلکار موقع پر ہی ہلاک ہوگئے جبکہ متعدد زخمی ہوئے۔
بیان میں کہا گیا کہ ایک اور حملے میں یکم اکتوبر کی رات آٹھ بجے تربت شہر میں تعلیمی چوک پر قائم دشمن کے چیک پوسٹ پر دستی بم سے حملہ کیا جس سے دشمن کا ایک اہلکار ہلاک جبکہ جونیئر آفیسر نائیک اشرف اور شاہی ظاہر زخمی ہوئے۔
انہوںنے کہا کہ دھماکے کے بعد قابض پاکستانی فورسز نے وہاں پہنچ کا جگہ کا معائنہ کیا اور سرمچاروں کی تلاش شروع کردی لیکن کامیاب حکمت عملیوں کی وجہ سے سرمچار بحفاظت محفوظ ٹھکانوں پر منتقل ہوگئے۔
جبکہ تیسرے حملے میں سرمچاروں نے دو اکتوبر دن کے بارہ بجے زامران کے علاقے ڈمبان دشتک میں قائم قابض پاکستان فوج کی چوکی پر جدید و خودکار ہتھیاروں سے حملہ کیا جس کی زد میں آکر دشمن کا ایک اہلکار شدید زخمی ہوا۔
ترجمان نے کہا کہ بی ایل ایف کی کاروائیاں بلوچستان بھر میں پاکستانی فورسز، فوجی تنصیبات اور دشمن آلہ کاروں پر شدت کے ساتھ جاری ہیں جس کی وجہ سے دشمن فورسز شدید نفسیاتی دباؤ کا شکار ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ ان تینوں حملوں کی ذمہ داری قبول کرتی ہے اور آزاد بلوچستان کے حصول تک دشمن فورسز کو نشانہ بناتی رہیگی۔