پنجاب یونیورسٹی میں بلوچ طلبا پر حملہ ،5 سے زائد زخمی، متعدد گرفتار

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارلحکومت لاہور میں پنجاب یونیورسٹی میں بلوچ طلبا پر متشدانہ حملہ ہوا ہے۔

کہا جارہا ہے کہ بلوچ طلبا پر حملہ ہاسٹل میں ہوا جہاں جمعیت طلبانے آتشی اسلحے کا آزادانہ استعمال کرکے بلوچ طلبا پر حملہ کیا جس سے 5 سے زائد طلبا زخمی ہوگئے جن میں 2 کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے۔

حملے میں زخمیوں کی شناخت تا حال نہ ہوسکی۔

اس سلسلے میں پنجاب یونیورسٹی کے ایک طالبہ اور طلبا رہنما سعدیہ بلوچ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ایک پوسٹ میںزخمی طلبا کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے کہا ہے کہ جمعیت کے غنڈوں نے آج ایک بار پھر پنجاب یونیورسٹی لاہور میں بلوچ طلباء پر وحشیانہ حملہ کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حملے میں پانچ سے زائد بلوچ طلباء شدید زخمی ہوگئے ہیں۔

سعدیہ بلوچ نے کہا کہ پنجاب پولیس نے جمعیت کے غنڈوں کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے گیارہ سے زائد بلوچ طلباء کو گرفتار کر لیا ہے۔

انہوںنے کہا کہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ہمارے گرفتار طلباء کو فوری رہا کیا جائے۔ بلوچ طلباء کے خلاف پروفائلنگ اور تشدد کو روکا جائے اور کیمپس میں طلباء کی سیکورٹی کو یقینی بنایا جائے۔

واضع رہے کہ پنجاب بھر کے تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم بلوچ طلباعدم تحفظ کا شکار ہیں۔

ریاستی انٹیلی جنس اداروں کی جانب سے پنجاب میں زیر تعلیم بلوچ طلباکی پروفائلنگ ،جبری گمشدگی سمیت انہیں لسانی بنیاد پر ہراسانی و دیگر طلباتنظیموں سے متشددانہ رویوں کا سامنا ہے ۔

Share This Article
Leave a Comment