بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ اپنے ایک پریس ریلیز میں قلات میں سنائپر حملے میں پاکستانی فوجی اہلکارکی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ سرمچاروں نے 4 ستمبر بروز بدھ شام 6 بجے قلات کے علاقے شاہ مردان میں قائم قابض پاکستانی فرنٹیئر کانسٹیبلری کی چیک پوسٹ کے اہلکاروں کو اس وقت اسنائپر سے نشانہ بنایا جب وہ اپنی ڈیوٹی تبدیل کررہے تھے، جس کی زد میں آکر ایک ایف سی اہلکار ہلاک ہوا۔
انہوںنے کہا کہ اسنائپر حملے کے بعد سرمچاروں نے پوسٹ پر راکٹ گولے فائر کیے جو چیک پوسٹ کے اندر جا گرے جس سے فورسز کو مزید جانی و مالی نقصان پہنچا۔
بیان میں کہا گیا کہ بلوچستان میں پاکستانی ریگولر فوج اور ایف سی کی بڑی تعداد جدید مشینری سے لیس ہے لیکن گوریلا جنگی حکمت عملیوں نے بلوچستان میں فوج کو ذہنی و نفسیاتی بیماریوں کا شکار بنادیا ہے۔ پاکستانی فوج کے پاس ان بیماریوں سے نجات کا واحد حل بلوچستان سے مکمل انخلاء ہے۔
ترجمان کا کہناتھا کہ بی ایل ایف اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتی ہے اور آزاد بلوچستان تک اپنے حملے جاری رکھنے کا عزم کرتی ہے۔