یرغمالوں کی رہائی کے معاہدے کیلئے نیتن یاہو کچھ نہیں کر رہے، بائیڈن

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

امریکی صدر جو بائیڈن نے پیر کے روز کہا کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو غزہ میں حماس کی قید میں موجود یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے کو آگے بڑھانے کے لیے کافی کچھ نہیں کر رہے ہیں۔

صدر بائیڈن وائٹ ہاؤس میں اس رپورٹ کے بعد صحافیوں سے بات کر رہے تھے کہ اختتام ہفتہ اسرائیلی فورسز نے غزہ کی ایک سرنگ میں سے 6 یرغمالوں کی لاشیں بازیاب کیں جن میں ایک 23 سالہ اسرائیلی نژاد امریکی ہرش گولڈ برگ پولن بھی شامل تھا۔

اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ ان یرغمالوں کو حماس کے عسکریت پسندوں نے حال ہی میں ہلاک کیا تھا۔

اس واقعہ نے غزہ کی جنگ بندی سے متعلق نیتن یاہو کی حکمت عملی پر بائیڈن انتظامیہ کی تنقید میں اضافہ ہوا ہے اور بقیہ یرغمالوں کو جلد واپس لانے کے لیے دباؤ میں اضافہ ہوا ہے۔

جب صدر بائیڈن سے صحافیوں نے پوچھا کہ آیا ان کے خیال میں نیتن یاہو یرغمالوں کی رہائی کے لیے معاہدہ کرنے کے لیے کافی کچھ کر رہے ہیں تو ان کا جواب تھا، ’نہیں‘۔

تاہم انہوں نے اپنے جواب کی وضاحت نہیں کی۔ دوسری جانب اسرائیل نے اس جواب پر تنقید کی ہے۔

غزہ جنگ نے ڈیموکریٹس کے درمیان تفریق کو ہوا دی ہے اور بہت سے ترقی پسند ڈیموکریٹس بائیڈن پر یہ دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ اسرائیل کے لیے امریکی ہتھیاروں کی فراہمی کو محدود کر یں یا اس پر شرائط عائد کریں۔

اسرائیلی مظاہرین پیر کو دوسرے روز بھی سڑکوں پر احتجاج کیا اور ملک کی سب سے بڑی ٹریڈ یونین نے حکومت پر یرغمالیوں کی واپسی کے کسی معاہدے تک پہنچنے کی خاطر دباؤ ڈالنے کے لیے عام ہڑتال کی۔

Share This Article
Leave a Comment