بلوچستان میں طوفانی بارشوں سے تباہی کی صورتحال ہے ۔اب تک 13 بچوں سمیت 31افراد ہلاک جبکہ 15 زخمی ہوئے ہیں۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق بلوچستان میں مون سون بارشوں سے نقصانات کے باعث 13 بچوں سمیت 31افراد ہلاک ہوگئے۔بارشوں کے دوران 11بچوں سمیت 15 افراد زخمی ہوئے۔ 866گھر مکمل منہدم اور13ہزار 986 گھروں کوجزوی نقصان پہنچا۔
ان کا کہنا تھا کہ بارشوں سے ایک لاکھ 10 ہزارسے زائد افراد متاثرہوئے ۔طوفانی بارشوں سے 58ہزار799 ایکڑ پرفصلیں تباہ اور41 کلو میٹر سڑکیں متاثر اور ہوئیں اور 4 ہیلتھ کیئریونٹس کو بھی نقصان پہنچا ۔
بیان میں کہا گیا کہ بارشوں کے دوران 373مویشی ہلاک ہوئے بارشوں سے7 پلوں کوبھی نقصان پہنچا۔
چمن ، قلعہ سیف اللہ اور دکی میں بارشوں سے مزید 3 افراد ہلاک ہوگئے۔
دکی میں ایک شخص گاڑی سمیت سیلابی ریلے میں بہہ گیا۔
دکی میں سیلابی ریلے میں جاں بحق ہونے والے شخص کی شناخت قادر خان کے نام سے ہوئی ہے ۔
محمد اکرم نامی شخص قلعہ سیف اللہ میں سیلابی ریلے میں ڈوب کر ہلاک ہوگیا ۔
چمن میں چھت گرنے سے ایک بچہ ہلاک ہوگیا ۔
مون سون کی حالیہ بارشوں میں 20جون سے اب تک ہلاک افراد کی تعداد 31ہوگئی۔
قلعہ سیف اللہ ، بولان اور چمن میں 2سو سے زائد گھروں کو نقصان پہنچا۔
بولان میں کلی سردار ساتکزئی میں 50سے زائد گھر متاثر ہوئے۔
چمن میں متعدد کلیوں میں درجنوں مکانات کو نقصان پہنچا اورمون سون کی حالیہ بارشوں میں کے دوران 866 گھر مکمل تباہ ہوئے۔جبکہ 13ہزار 986گھروں کو جزوی نقصان پہنچا۔
اب تک بلوچستان میں ایک لاکھ دس ہزار سے زائد افراد بے گھر ہوئے۔ 373 سے زائد مال مویشی بھی سیلابی ریلوں سے ہلاک ہوئے ۔
بلوچستان میں مون سون کی حالیہ بارشوں میں اب تک 60ہزار ایکڑ اراضی پر فصلوں کو نقصان پہنچا ہے۔