جبری گمشدگی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے پر پاکستان کا احتساب ہونا چاہیئے، رحیم بلوچ

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچ آزادی پسند رہنما،بی ایس او کے سابق چئیرمین،بی این ایم کے سابق مرکزی سیکریٹری جنرل رحیم بلوچ ایڈووکیٹ نے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز ڈے کے موقع پر سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ٹیوٹر پر اپنے مختلف ٹیوٹس میں کہا کہ

فروری کے18 تاریخ 2011 کو پاکستان آرمی نے خضدار کے گاؤں توتک کا محاصرہ کیا اور بزگ شخصیت میر محمد رحیم قلندرانی ولد جمعہ خان کو دو درجن کے قریب اس کی خاندان کے ارکان اور رشتہ داروں کے ہمراہ اغواء کیا۔ ان میں سے16 افراد بشمول میر محمد رحیم ہنوز لاپتہ ہیں

https://twitter.com/RahimBalochh/status/1269968011265372167

آزادی پسند رہنما نے اپنے ٹیوٹ میں ایک تصویر بھی شیئر کی جس میں توتک میں پاکستانی فورسز ہاتھوں لاپتہ ہونے والے افراد کے نام اس طرح درج ہیں۔
توتک کے لاپتہ افراد
،میرمحمد رحیم خان ولد جمعہ خان،ڈاکٹرمحمد طاہر ولد محمد رحیم خان،عتیق الرحمن ولد سردار علی محمد،خلیل الرحمن ولد سردار علی محمد،وسیم الرحمن ولد سردار علی محمد،آصف ولد جمعہ خان،ڈاکٹر ظفر ولد نور احمد،آفتاب ولد مشتاق احمد
ضیاء اللہ ولد عبداللہ، فیدا احمد ولد عبداللہ،نثار احمد ولد یعقوب خان،امتیازاحمد ولد عبدالحکیم،ندیم ولد عبدالحکیم،مصطفی ولد عبدالغنی ،ارشاد احمد ولد نواب خان,عمران ولد گامڑ خان

آزادی پسند رہنما نے ایک اور ٹیوٹ میں کہا کہ
زاکر مجید، جو کہ اس وقت بی ایس او آزاد کا وائس چیئرمین تھا،8جون 2009 کو مستونگ سے گرفتار کیا گیا، تاحال لاپتہ ہے اس کی صحت اور بہبود کے متعلق کچھ بھی معلوم نہیں ہے۔ مخالفوں کے خلاف جبری گمشدگی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے پر پاکستان کا احتساب ہونا چاہیئے

https://twitter.com/RahimBalochh/status/1269934913572139010

انہوں نے ایک اور ٹیوٹ میں کہا ک31 اگست2018 کو پاکستانی فورسز نے نوشکی کے سیاحتی مقام زنگی ناوڑ سے ایک درجن کے قریب بلوچ نوجوانوں کو بشمول محمدآصف ولد محمد پناہ، عبدالرشید ولد عبدالرزاق ساکنان خضدار اور بلال ولد استاد میراحمد کو گرفتار کیا۔ وہ سب ابھی تک لاپتہ ہیں

https://twitter.com/RahimBalochh/status/1269934481336496129
Share This Article
Leave a Comment