بلوچستان میں بارشوں سے ریلوے نظام درہم برہم ،قلات میں پانی گھروں میں داخل

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان بھر میں طوفانی بارشوں اور سیلاب کی تباہ کاریاں جاری ہیں۔

ریلوے حکام کے مطابق حالیہ مون سون بارشوں کے باعث سبی ہرنائی ریلوے سیکشن 21 جولائی سے بند پڑا ہوا ہے ،اس سیکشن کی از سر نو تعمیر پر ریلوے نے ایک سال قبل تقریباً 4 ارب روپے خرچ کیے تھے۔

کوئٹہ تفتان ریلوے سیکشن پر سیلابی پانی نوشکی کے قریب ٹریک بہا کر لے گیا ،ریلوے لائن پر شگاف پڑنے کے باعث ٹرینوں کی آمدورفت معطل کردی گئی ہے۔

ادھر کوئٹہ چمن ریلوے سیکشن پر ریلوے پٹری کئی مقامات پر بہہ گئی جس کے باعث کوئٹہ چمن ٹرین سروس کو معطل کر دیا گیا ہے۔

اس وقت کوئٹہ ڈویژن میں صرف ایک ٹرین جعفر ایکسپریس ہے جو پشاور کیلئے چلائی جارہی ہے۔

اسی طرح ہفتے کی شام کو قلات شہر و گردونواح میں گرج چمک کے ساتھ موسلادھار و طوفانی بارش ہوئی جس سے نشیبی علاقے زیر آب آگئے گلیاں اور سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں۔

ندی نالوں میں طغیانی آگئی مختلف ندی نالوں میں سیلابی ریلوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہوا جبکہ کئی دیہی علاقوں کے زمینی رابطے منقطع ہوگئے ۔

دوسری جانب مختلف گھروں میں بارش کا پانی داخل جبکہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں بھی بارش کا پانی داخل ہونے سے اسپتال اسٹاف اور مریضوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

Share This Article
Leave a Comment