بلوچستان کے علاقے خاران میں گزشتہ دن 14اگست کو خاران بازار سے پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری طور پر لاپتہ ہونے والے دو نوجوانوں کی گمشدگی کیخلاف لواحقین کا بی وائی سی اور دیگر کارکنان کے موجودگی میں دھرنا آج دوسرے روز بھی ریڈ زون ایریا میں جاریہے۔
جبکہ ان دونوں نوجوانوں کی جبری گمشدھی کیخلاف آج خاران میں مکمل شٹرڈاؤن ہڑتال رہی ۔
احتجاجی دھرنے میں خواتین بچے نوجوان بڑی تعداد میں موجود ہیں ۔
خاران سے جبری طور پر لاپتہ ہونے والے رحیم الدین بلوچ خالد نواب بلوچ سید محمود شاہ عمران نواب نجیب بلوچ پرویز بادینی و دیگر کے لواحقین نے بھی احتجاجی دھرنے میں شرکت کرکے لواحقین سے اظہار یکجہتی کیا جبکہ خاران بار ایسوسی ایشن کے وکلاء سیاسی پارٹیز کے رہنماوں علماء کرام بھی اظہار یکجہتی کیلئے دھرنا کیمپ پہنچے اور حکومت اور ضلعی انتظامیہ سے گزشتہ دن دو نوجوان لکمیر اور خدائے رحیم بلوچ کی فوری بازیابی کا مطالبہ کیا۔
ضلعی انتظامیہ کی طرف سے ڈپٹی کمشنر خاران ایس پی پولیس اور اے سی خاران نے دھرنے کے شرکاء سے مذاکرات کیئے ہیں مگر تاہم مذاکرات کامیاب نہ ہوسکے ہیں جبکہ دھرنا بھی ریڈ زون ایریا میں جاری ہے۔