بلوچوں کو اب گولی سے ڈرایا نہیں جاسکتا، ڈاکٹر ماہ رنگ ودیگر کا اجتماعات سے خطاب

ایڈمن
ایڈمن
5 Min Read

بلوچ یکجہتی کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹرماہ رنگ بلوچ ،صبغت اللہ و دیگر قائدین نے سوراب، نوشکی ، قلات ، گریشہ ،منگچرمیں جم غفیر عوامی سیلاب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچ راجی مچی کو ناکام بنانے کیلئے حکومتی وزرا اور اداروں نے مختلف حربے استعمال کیے لیکن وہ اسے روکنے میں یکسر ناکام رہے۔

https://twitter.com/BalochYakjehtiC/status/1822870325337399605

جلسوں سے ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ، شاجی صبغت اللہ شاہ و دیگر نے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سی پیک سے بلوچستان کو کوئی فائدہ نہیں مل رہا سی پیک بلوچستان کے نام پر ہے لیکن بلوچستان میں چند فٹ روڈ تک نہیں بنائی گئی، ٹوٹ پھوٹ کا شکار یہاں کی شاہراہیں روز حادثات کی شکل میں ہمیں لاشوں کے تحفے دے رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں کبھی سی پیک، کبھی پیکیجز کے نام پر دھوکا دیا جاتا ہے، ہمارے نوجوانوں کو اغوا کرکے انکی مسخ شدہ لاشیں پھینکی جاتی ہیں جوکہ کسی بھی معاشرے میں اس کی اخلاقی و قانونی اجازت نہیں، آج قلات کے عوام کے مشکور ہیں کہ جنہوں نے ثابت کیا کہ ہم یکجا اور ثابت قدم ہیں گوادر میں بلوچ راجی مچی کو ناکام بنانے کے لئے حکومتی وزرا و دیگر اداروں نے مختلف حربے استعمال کیے، دھرنے کے دوران گوادر کی تمام دکانیں ہوٹلیں بند کروادی حتی کہ انٹرنیٹ سروس موبائل نیٹورک اور پانی تک بند کی گئی، لیکن گوادر کے باشعور عوام نے اپنی گھروں سے راجی مچی کے شرکا کی مہمان نوازی کی اور انکی بھر پور خدمت کی۔

https://twitter.com/BalochYakjehtiC/status/1822736366116991332

انہوں نے کہا کہ ہم اپنی جدو جہد سے کھبی پیچھے نہیں ہٹیں گے اور عوام اسی تسلسل کے ساتھ اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کرے آخر میں شرکا پر امن طور پر منتشر ہوگئے اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کے شرکا منگچر کے لئے روانہ ہوگئے۔

گریشہ، سوراب اور قلات کے مختلف مقامات پر بلوچ یکجہتی کمیٹی کے قافلے کا بھرپور انداز میں استقبال اور انہیں ایک بہت بڑے جلوس کی شکل میں فٹبال اسٹیڈیم لایا گیا، جہاں ہزاروں کی تعداد میں شرکا بلوچ یکجہتی کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ شاہ جی صبغت اللہ فرزانہ رودینی ماہ زیب بلوچ ڈاکٹر واحد بلوچ اور دیگر مقررین نے خطاب کیا۔

https://twitter.com/BalochYakjehtiC/status/1822662285409583472

مقررین کا کہنا تھا غاصب حکمران بلوچستان کے وسائل کو لوٹنے کیلئے ہر حربہ استعمال کررہے ہیں، بلوچ وطن پر کسی کوسودی بازی کرنے نہیں دیں گے، بلوچوں کو گولی سے ڈرایا نہیں جاسکتا، اب وقت آچکا ہے کہ بلوچ قوم اپنے اوپر ہونے والے مظالم اور محکومی کے خلاف اجتماعی طور پر اٹھ کھڑی ہو اس لئے کہ سونے والی قوموں کی نصیب میں ہمیشہ غلامی ہوتی ہے، ہمیں غلامی قبول نہیں ، بدقسمتی سے بلوچ کے مارنے میں بلوچ شامل ہیں جوکہ ڈیتھ اسکواڈ کہلاتے ہیں اور ان ڈیتھ اسکواڈ جتھوں کو بلوچستان کے کونے کونے میں متحرک کیا گیا ہے اور یہ شرم کا مقام ہے کہ وہ اپنے بھائیوں کو مارنے میں ملوث ہیں۔

https://twitter.com/BalochYakjehtiC/status/1822656972149207428

انہوں نے کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچ قوم کو بچانے کے لئے میدان میں نکل چکی ہے اب ہماری کندھوں پر ایک بہت بڑی ذمہ عائد ہوچکی ہے، اس جاری تحریک کو روکنے کے لئے مختلف قسم کے حربے استعمال کئے جارہے ہیں لیکن ان کے ان مذموم حربوں سے یہ تحریک نہیں رکے گی۔ انہوں نے کہا کہ شہدا کی قربانیوں کی بدولت بلوچ یکجہتی کمیٹی کی تحریک اب ایک نئے عزم اور ولولے سے آگے بڑھ رہی ہے جس میں ہمیں بطور ایک قوم حصہ بن کر آگے بڑھنا ہوگا، ریاستی مظالم میں شریک عناصر کو ڈھونڈ کر ان کا سوشل بائیکاٹ اور سرکاری سرداروں کے خلاف اٹھنا ہوگا کیوں ہونے والے مظالم اور راج کی بدحالی میں ان کا بہت بڑا ہاتھ ہے اب ان کے اس ہاتھ کو بھی روکنا ہوگا۔

https://twitter.com/BalochYakjehtiC/status/1822613445490901033
Share This Article
Leave a Comment