بسیمہ میں ڈنک واقع کے خلاف پر امن ریلی کا انعقاد کیا گیا

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

برمش یکجہتی کمیٹی بسیمہ کی طرف سے سانحہ ڈنک کے خلاف ایک پر امن ریلی کا انعقاد کیا گیا جس میں مختلف طبقہ ء فکر کے لوگوں نے بڑی تعداد میں شرکت کیا۔

ریلی گورنمنٹ بوائز ہائی سکول بسیمہ سے شروع ہوا، جو مختلف شاہراوں سے ہوتے ہوئے بسیمہ بازار کے مین چوک پہ جمع ہوا، ریلی میں بسیمہ کے نوجوانوں سمیت قبائلی عمائدین نے خطاب کیا۔ اس کے علاوہ شرکاء نے پلے کارڈز اٹھائے تھے اور مظاہرہ بھی کیا گیا۔

شرکاء سے قبائلی و سیاسی شخصیت میر محمد ایوب عیسی زئی، بی ایس اوکے مرکزی آرگنائزنگ کمیٹی کے رکن کامریڈ ابرار برکت بلوچ، رخشان یوتھ ایجوکیشنل آرگنائزیشن کے چیرمین میر مطلوب بلوچ اور دیگر مقرریں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بسیمہ بلوچستان کے ہر اس سماجی معاملے میں ساتھ ہے جو اجتماعی حوالے سے بلوچ قوم پہ تاوان ہوتی ہے۔ ایسے واقعات کا رونما ہونا کسی المیہ سے کم نہیں ہے، یہ ایک انتہائی غیر انسانی اور شرمناک عمل ہے جو چور اور ڈاکو اپنائے ہوئے ہیں۔جو بلوچ قبائلی روایات اور اسلامی نقطہ نظر سے ایک ناقابل ء معافی جرم ہے۔ آج یہ مسئلہ صرف واقعہ ڈھنک تک محدود نہیں ہے ایسے ناپاک اعمال سے بلوچستان کا ہر علاقہ متاثر ہے۔ اس سے پہلے بھی کہی بار بلوچستان کے کئی علاقوں ایسے واقعات روہنما ہوئے ہیں۔ایک مہینہ قبل بھی بلوچ چاردیواری کو پامال کرتے ہوئے، ظالم کے پالے ہوئے چور ڈاکووں نے حملہ کیا تھا جس میں 3 خواتین سمیت 5 افراد زخمی ہوئے تھے۔ واقعہ ڈنک ایک آواز بن چکی ہوئی ہے یہ سانحہ ہر اس متاثرہ فیملی کی آواز ہے جو مختلف ادوار میں ریاست کے پشت پنائی میں کام کرنے والے جابروں سے متاثر ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جتنی دیر تک اس ظلم کے خلاف نہیں نکلیں گے اتنی ہی زیادہ ایسے جرائم جڑ پکڑتے جائیں گے۔سانحہ ڈھنک سمیت دیگر جتنے بھی جرائم مختلف بااثر لوگوں کی پشت پنائی میں ہورہی ہے اب انہیں رکھنا چائیے، اب بلوچ قوم کو ہر حالت میں اٹھنا چاہیے کیونکہ آج برمش ہے تو کل کوئی بھی بلوچ کسی بھی علاقے سے متاثر ہوسکتا ہے۔

اس واقعہ کے خلاف ہر اس بلوچ فرزند کو آواز اٹھانا چاہیے جو انسانی المیات کا درد رکھتے ہیں، جن کے ضمیر احساس سے بھرے ہوئے ہیں۔ جو بلوچ قوم کی اجتمائی مسائل کو اپنا مسئلہ سمجھتے ہیں۔

آخر میں انہوں نے حکومت ء وقت سے پرزور اپیل کیا کہ واقعہ ڈھنک میں شامل سارے قاتلوں کو سرعام پھانسی دی جائے اور انصاف کا تقاضا پورا کرکے برمش کو مکمل انصاف دی جائے تاکہ ایسے ناقابل قبول واقعات پھر سے روہنما نہ ہوں۔ اگر یہ سلسلہ چلتا رہا تو مزاحمتی احتجاج کو مزید وسعت دینگے اور اس وقت تک احتجاج کرتے رہینگے جب تک یہ سلسلہ ختم نہ ہوجائے۔

Share This Article
Leave a Comment