بلوچ راجی مچی کا کاروان آج بروزہفتہ کو تربت سے گریشہ کیلئے روانہ ہوچکی ہے ۔
مختلف علاقوں میں ہزاروں کی تعداد میں خواتین وبچوں سمیت بوڑھے و نوجوان اپنے گھروں سے نکل کرڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ سمیت دیگرخواتین قیادت کی ایک جھلک دیکھنے کیلئے راستوں میں والہانہ استقبال کیلئے انتظار میں کھڑے ہیں ۔
ہوشاپ میں سینکڑوں مردوخواتین اور بچوں نے راجی مچی کاروان کا والہانہ استقبال کیا۔
اطلاعات ہیں کہ جس علاقے سے بھی کاروان گزرہی ہے وہاں کااوان کا والہانہ استقبال کیا جارہا ہے۔
بی وائی سی کے مطابق اس وقت بلوچ راجی مچی کا کاروان پنجگور پہنچ چکا ہے، جہاں ہزاروں افراد نے کاروان کا استقبال کیا۔
بیان میں کہا گیا کہ کاروان پنجگور میں مختصر قیام کے بعد براستہ بیسیمہ گریشہ کے لیے روانہ ہوگا۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ بلوچ راجی مچی کا کاروان آج شام گریشہ میں بلوچ راجی مچی کے شہداء کی یاد میں دیوان منعقد کرکے سوراب کے لیے روانہ ہوگا۔
سوراب میں بھی بلوچ راجی مچی کے شہداء کی یاد میں دیوان ہوگا۔
گذشتہ روز بلوچ راجی مچی کا کاروان گوادر سے تربت پہنچ گیاجہاں بلوچ یکجہتی کمیٹی نے ایک عظیم الشان جلسہ کیا تھا جس میں ہزاروں کی تعداد میں مرد خواتین نے شرکت کی۔
کیچ ٹاور سمیت اردگرد کی عمارتوں پر بڑی تعداد میں لوگ موجود تھے ۔ جو ایک تاریخی و یادگار جلسہ قرار دیا جارہا ہے۔
جلسہ میں ڈاکٹر ماہ رنگ ،سمی دین، محمد صبغت اللہ شاہ جی ،ڈاکٹر صبیحہ سمیت دیگر رہنما ئوں نے خطاب کیا تھا۔