نوبیل انعام یافتہ پروفیسر محمد یونس نے بنگلہ دیش کے عبوری سربراہ کے طور پر حلف اُٹھا لیا ہے۔
انھوں نے بنگلہ دیش پہنچتے ہی میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’بہت کام کرنا باقی ہے۔‘
جمعرات کو فرانس سے دارالحکومت ڈھاکہ پہنچنے کے بعد بی بی سی سے بات کرتے ہوئے 84 سالہ عبوری سربراہ نے کہا کہ ’لوگ پرجوش ہیں۔‘
بنگلہ دیش پر 15 سال تک حکمرانی کرنے والی شیخ حسینہ واجد نے کئی ہفتوں تک طلبہ کی قیادت میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے بعد وزیر اعظم کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا جس کے نتیجے میں سیکڑوں افراد ہلاک ہوئے تھے۔
پروفیسر یونس کو عبوری حکومت کا چیف ایڈوائزر نامزد کرنے کا فیصلہ صدر محمد شہاب الدین، فوجی رہنماؤں اور طلبہ رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ملاقات کے بعد کیا گیا۔
طالب علموں نے واضح کر دیا تھا کہ وہ فوج کی قیادت والی حکومت کو قبول نہیں کریں گے، لیکن وہ چاہتے ہیں کہ پروفیسر یونس چیف ایڈوائزر کے طور پر سامنے آئیں۔
بنگلہ دیش کے صدر محمد صحاب الدین نے جمعرات کی شب ڈھاکہ میں مُلک کے عبوری سربراہ محمد یونس سے حلف لیا۔
اس کے بعد 16 ایڈوائزری کونسلرز کے ناموں کا اعلان کیا گیا۔ پروفیسر محمد یونس کی کابینہ میں ڈاکٹر صالح الدین احمد، ڈاکٹر آصف نذرل، عادل الرحمن خان، حسن عارف، توحید حسین، سیدہ رضوانہ حسن، شرمین مرشد، فاروقی اعظم، بریگیڈیئر جنرل (ر) ایم سخاوت حسین، سپردیپ چکما، بیدھن رنجن رائے، اے ایف ایم خالد حسن اور فریدہ اختر شامل ہیں۔
تاہم محمد یونس کی کابینہ میں شامل ان 16 افراد میں سے حلف بردادی تقریب میں 13 نے حلف اُٹھایا تاہم تین ممبران ایسے تھے کہ جو شہر سے باہر ہونے کی وجہ سے حلف بردادی کی تقریب میں شامل نہیں ہو سکے۔
پروفیسر محمد یونس کی کابینہ میں طلبہ تنظم کے رہنما ناہید اسلام بھی شامل ہیں کہ جن کی سربراہی میں بنگلہ دیش میں کوٹہ سسٹم کے خلاف اُس احتجاج کا آغاز ہوا تھا کہ جس نے مُلک کی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے اور مُلک چھوڑنے پر مجبور کیا تھا۔
بنگلہ دیش میں شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد کوٹہ مخالف طلبہ تحریک کے مطالبے پر ملک کے عبوری سربراہ بننے والے 84 سالہ معیشت دان پروفیسر محمد یونس کو ان کی قسمت چھ ماہ میں قید خانے سے اقتدار کی دہلیز پر لے تو آئی ہے لیکن ساتھ ہی ان کے کندھوں پر ہی ملک میں امن و امان کے قیام اور استحکام لانے کی ذمہ داری آن پڑی ہے۔