بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ میں قمبرانی روڈ پر اللہ والا مسجد کے قریب ایگل اسکواڈ کے موٹر سائیکل سوار اہلکاروں کو ایک بم دھماکے میں نشانہ بنایا گیا۔
ذرائع کے مطابق دھماکہ اس وقت ہوا جب ایگل اسکواڈ کے اہلکار گشت کے دوران وہاں سے گزر رہے تھے۔
ابتدائی اطلاعات میں اہلکاروں کے جانی نقصان کی بات کی جا رہی ہے، تاہم فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر رسائی محدود کر دی ہے۔
ایگل اسکواڈ کے خلاف حالیہ ہفتوں میں غیر قانونی حراست، تشدد اور نوجوانوں کی ہلاکتوں کے الزامات میں اضافہ ہوا ہے۔
تین روز قبل کوئٹہ میں ایک نوجوان خالد ساسولی کو فائرنگ کرکے قتل کیا گیا تھا، جبکہ اس سے قبل اسرار احمد نامی نوجوان کی حراست کے دوران مبینہ تشدد سے موت کی خبر سامنے آئی تھی۔
دوسری جانب، علی الصبح خاران کے علاقے المرک، کسان اور گردونواح میں پاکستانی فوج کی متعدد گاڑیوں پر مشتمل قافلوں نے پیش قدمی کی، جس دوران گھات لگائے مسلح افراد نے ایک قافلے کو نشانہ بنایا۔
حملے کے بعد علاقے میں جھڑپیں شروع ہو گئیں اور ڈرون پروازوں کی بھی اطلاع ملی ہے۔
حکام نے تاحال آپریشن یا جھڑپوں سے متعلق کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا۔
گزشتہ روز خضدار کے علاقے زہری میں بھی فورسز کو اس وقت جانی نقصان اٹھانا پڑا تھا جب سوہندہ کے مقام پر پہلے بم دھماکے اور پھر مسلح حملے میں اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا۔
اطلاعات کے مطابق زہری میں رات گئے تک جھڑپیں جاری رہیں اور علاقے میں ڈرون سرگرمی دیکھی گئی۔
بلوچستان کے مختلف اضلاع میں حالیہ واقعات کے بعد سیکیورٹی صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے، جبکہ حکام کی جانب سے مجموعی صورتحال پر کوئی جامع بیان سامنے نہیں آیا۔