مند میں 2 نوجوان جبری لاپتہ، پروم سے 4 لاپتہ افراد کی لاشیں برآمد

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان کے ضلع کیچ کی تحصیل مند میں پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری گمشدگی کے دو نئے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، جبکہ ضلع پنجگور کے علاقے پروم سے 4 افراد کی لاشیں ملنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

آمدہ اطلاعات کے مطابق 13 اپریل 2026 کی رات تقریباً 3 بجے فرنٹیئر کور (ایف سی) نے مند کے علاقے خلاق دان میں ایک گھر پر چھاپہ مار کر 20 سالہ خورشید مراد ولد نصیر کو حراست میں لیا اور نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔

خورشید مراد پیشے کے لحاظ سے ڈرائیور ہیں۔

اسی روز صبح تقریباً 4:30 بجے ایف سی اہلکاروں نے گیاب مند، کیچ میں ایک اور گھر پر کارروائی کرتے ہوئے 21 سالہ شیرا ولد یونس کو گرفتار کر کے جبری طور پر لاپتہ کر دیا۔

شیرا کا تعلق زراعت سے تھا اور وہ بطور کسان کام کرتے تھے۔

اہل خانہ کے مطابق دونوں نوجوانوں کو ان کے گھروں سے لے جانے کے بعد سے ان کی گرفتاری، مقامِ حراست یا حالت کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں، جس پر لواحقین شدید تشویش میں مبتلا ہیں۔

خاندانوں نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ دونوں نوجوانوں کو فوری طور پر منظر عام پر لایا جائے۔

دوسری جانب پنجگور کے علاقے پروم سے چار افراد کی لاشیں ملنے کی اطلاع سامنے آئی ہے۔

ذرائع کے مطابق لاشوں کو پروم جائین ہسپتال منتقل کیا گیا ہے، جہاں ان کی شناخت اور واقعے کی نوعیت کے حوالے سے تحقیقات جاری ہیں۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق چاروں افراد کی لاشیں پاکستانی فورسز کی جانب سے ہسپتال لائی گئیں۔

ہلاک افراد میں سے 2 کی شناخت مروان ولد حمزہ اور ہاتم ولد حاجی محمد کے نام سے ہوئی ہے، جنہیں مقامی افراد کے مطابق 5 اپریل 2026 کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا۔ دیگر دو افراد کی شناخت کا عمل جاری ہے۔

واضح رہے کہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں جبری گمشدگیوں اور لاشوں کی برآمدگی کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس پر انسانی حقوق کی تنظیمیں بارہا تشویش کا اظہار کر چکی ہیں۔

Share This Article