جھاؤ میں فوجی کیمپ پر حملے میں متعدد اہلکار ہلاک و زخمی، خاران میں شاہراہ کی ناکہ بندی کی، میجر گہرام بلوچ

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

 بلوچستان لبریشن فرنٹ( بی ایل ایف) کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا کو جاری بیان میں جھاؤ میں فوجی کیمپ پر حملے میں متعدد اہلکاروں کی ہلاکت اور خاران میں شاہراہ کی ناکہ بندی کی ذمہ داری قبول کرلی۔

ترجمان کے مطابق بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سرمچاروں نے 12 اپریل 2026 کو ایک منظم اور مربوط کارروائی کرتے ہوئے جھاؤ کے علاقے کوئڑو میں قائم قابض پاکستانی فوج کے ایک مرکزی کیمپ کو نشانہ بنایا۔
 
انہوں نے کہا کہ حملے کا آغاز اسنائپر دستے نے کیا، جس نے دشمن کے کیمپ کی نگرانی پر مامور ایک فوجی اہلکار کو ہدف بنا کر موقع پر ہی ہلاک کر دیا۔ اسنائپر حملے کے فوراً بعد پوزیشن سنبھالے دستوں نے چابک دستی سے کیمپ پر مختلف اطراف سے راکٹ لانچرز، ایل ایم جی اور دیگر خودکار بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا۔ اس کارروائی کے نتیجے میں دشمن کے کیمپ کو شدید نقصان پہنچا اور کیمپ کے اندر موجود متعدد فوجی اہلکار ہلاک و زخمی ہوئے۔
 
ان کا کہنا تھا کہ ایک اور کارروائی میں سرمچاروں نے 14 اپریل 2026 کو خاران کے علاقے سراوان میں نوروز آباد روڈ پر ایک منظم اور کامیاب ناکہ بندی کی۔ سرمچاروں کے دستوں نے کئی گھنٹوں تک اس اہم شاہراہ پر مکمل عسکری کنٹرول حاصل کیا اور علاقے کو اپنے حصار میں لے کر دشمن کی ہر قسم کی نقل و حرکت کو مفلوج کیے رکھا۔
 
ترجمان نے کہاکہ ناکہ بندی کے دوران سرمچاروں نے شاہراہ سے گزرنے والی تمام گاڑیوں کی سخت تلاشی لی اور آمد و رفت کی کڑی نگرانی جاری رکھی۔ ایسی کارروائیوں کا مقصد مقبوضہ بلوچستان کی شاہراہوں پر دشمن ریاست کے نام نہاد عمل داری کو پامال کرتے ہوئے مسترد کرنا، ان کی نقل و حرکت کو مسدود کرنا، اور بلوچ سرزمین پر اپنی عسکری قوت کی برتری قائم کرنا ہے۔
 
بیان میں کہا گیا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ بس مالکان اور ٹرانسپورٹرز کو دوٹوک الفاظ میں تنبیہ کرتی ہے کہ وہ قابض پاکستانی فوج کے ساتھ کسی بھی قسم کی سہولت کاری سے مکمل گریز کریں۔ ہم یہ واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ جو کوئی بھی دشمن کی لاجسٹک مدد یا اہلکاروں کی نقل و حرکت میں معاونت کرے گا، وہ براہِ راست نشانے پر ہوگا اور اپنے جانی و مالی نقصان کا ذمہ دار خود ہوگا۔
 
تنظیم کے مطابق بلوچستان لبریشن فرنٹ جھاؤ میں قابض پاکستانی فوج کے کیمپ پر حملے اور خاران میں ناکہ بندی کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔ ہم یہ واضح کرتے ہیں کہ بلوچستان کی تمام شاہراہیں اور راستے ہمارے زیرِ اثر ہیں اور دشمن کی نقل و حرکت کی ہر کوشش اس پر بھاری پڑ جائے گا۔ بی ایل ایف مقبوضہ بلوچستان کی مکمل آزادی تک دشمن اور اس کے سہولت کاروں کے خلاف اپنی عسکری کارروائیاں جاری رکھنے کا عزم رکھتی ہے۔

Share This Article