نوبیل انعام یافتہ محمد یونس کو بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے سربراہ مقرر کردیا گیا ہے ۔سابق وزیر اعظم خالدہ ضیا کورہاکردیا گیا ہے ۔
نوبیل انعام یافتہ محمد یونس کی ملک کی عبوری حکومت کے سربراہ کی حیثیت سے تقرری کا اعلان،بنگلہ دیش کے صدر نے بدھ کو فوجی رہنماؤں، طلباء مظاہرین اور سول سوسائٹی کے اراکان سے ملاقات کے بعد کیا ہے۔
یہ اعلان وزیر اعظم شیخ حسینہ کےخلاف طلباء کی قیادت میں ہونے والے مظاہروں کے نتیجے میں ہونے والی عوامی بغاوت کے دوران ان کے مستعفی اور فرار ہونے کے بعد کیا گیا۔
بدھ کو علی الصبح یہ اعلان صدر محمد شہاب الدین کے پریس سکریٹری عابدین نے کیا۔ عابدین نے ایسوسی ایٹڈ پریس سے فون پر بات کی۔
طلباء کے احتجاج کے رہنماؤں، ملک کی تینوں افواج کے سربراہان اور سول سوسائٹی کے اراکین کے ساتھ ساتھ کچھ کاروباری رہنماؤں نے منگل کو صدر کے ساتھ پانچ گھنٹے سے زیادہ دیر تک ملاقات کی تاکہ عبوری انتظامیہ کے سربراہ کا فیصلہ کیا جا سکے۔
بنگلہ دیش کے صدر نے منگل کو پارلیمنٹ کو تحلیل کر دیاتھا، جس سے طویل عرصے تک برسر اقتدار رہنے والی وزیر اعظم کی جگہ نئے انتخابات کا راستہ ہموار ہو گیا۔ حسینہ نے اپنی حکمرانی کے خلاف کئی ہفتوں کے مظاہروں کے بعد استعفیٰ دے دیا تھا اور ملک سے فرار ہو گئی تھیں۔
اس سے قبل بنگلہ دیش کے نوبیل انعام یافتہ محمد یونس نے منگل کو خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا تھا کہ وہ نگراں حکومت کی سربراہی کے لیے تیار ہیں، ان کا یہ بیاں بڑے پیمانے پر احتجاج کے نتیجے میں ملک کی دیرینہ حکمران شیخ حسینہ کے استعفیٰ اور فرار اور فوج کی جانب سے ملک کاکنٹرول سنبھالنے کے ایک دن بعدسامنے آیا ۔
مائیکرو فنانس کے علمبردار 84 سالہ یونس کے سر لاکھوں لوگوں کو غربت سے نکالنے کا سہرا ہے ۔ جس سے انہیں معزول شیخ حسینہ کی دشمنی اور لاکھوں بنگلہ دیشیوں کا وسیع پیمانے پر احترام حاصل ہوا۔
انہوں نے اے ایف پی کو ایک بیان میں کہا، "اگر بنگلہ دیش میں، میرے ملک کے لیے اور اپنے لوگوں کا حوصلہ بڑھانے کے لیے کارروائی کی ضرورت پڑی، تو میں ایسا کروں گا۔”
محمد یونس نے قرضے دینے والا گرامین بینک قائم کیا تھا۔ اس بینک کے ذریعے بنگلہ دیش میں غربت کے خاتمے کے لیے محمد یونس کی خدمات کے اعتراف میں انہیں 2006 میں نوبیل امن انعام دیا گیا تھا۔
محمد یونس نے اُن دیہی علاقوں میں مجموعی طور پر تقریباً 10 کروڑ ڈالر کے قرضے دیے تھے جنہیں عام طور پر بینک نظر انداز کر دیتے ہیں۔ گرامین بینک کے ماڈل پر دنیا میں ترقی یافتہ ممالک سمیت دیہی علاقوں میں چھوٹے کاروبار کے لیے قرضوں کی فراہمی کے کئی منصوبے شروع ہوئے۔ انہوں نے امریکہ میں بھی ایسا ہی ایک ادارہ قائم کیا۔
اپنی بڑھتی ہوئی کامیابیوں کے ساتھ 2007 میں محمد یونس نے اپنی سیاسی جماعت بنانے کی کوشش کی۔ تاہم 84 سالہ محمد یونس کا سیاسی سفر بہت مختصر رہا۔ لیکن محمد یونس کے سیاسی مقاصد سامنے آنے سے شیخ حسینہ بہت برہم ہوئیں اور ان پر غریبوں کا خون چوسنے کا الزام بھی عائد کیا۔
بنگلہ دیش اور اس کے ہمسایہ بھارت سمیت بعض ممالک دنیا میں مائیکرو کریڈٹنگ (چھوٹے قرضوں) پر یہ تنقید کرتے ہیں کہ ان کے عوض غریبوں سے بہت زیادہ سود وصول کیا جاتا ہے۔ لیکن محمد یونس کے مطابق ان کے فراہم کیے گئے قرضوں پر لیے جانے والا سود ترقی پذیر ممالک کی شرح سود سے کم ہے۔

دوسرری جانب بنگلہ دیش کی پہلی خاتون رہنما اور سابق وزیر اعظم خالدہ ضیاء کو منگل کے روز گھر میں نظربندی سے رہا کر دیا گیا، جب کہ ایک روز قبل ان کی سخت ترین دشمن شیخ حسینہ وزیر اعظم اپنے عہدے سے مستعفی ہو کر ملک سے فرار ہو گئیں ۔
صدر محمد شہاب الدین کے دفتر نے کہا کہ حزب اختلاف کی مرکزی جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کی سربراہ خالدہ کو دفا ع سے متعلق سربراہوں اور سیاست دانوں سے گفت و شنید کے بعد رہا کر دیا گیا ہے۔
بنگلہ دیش پر 1991 سے 76 سالہ حسینہ اور 78 سالہ خالدہ کا غلبہ رہا ہے جنہوں نے ابنگلہ دیش کے دو مقتول حکمرانوں کی سیاسی تحریکوں کو ورثے میں حاصل کرنے کے بعد متبادل طریقے سے اقتدار سنبھالا تھا۔ ان دونوں مقتول رہنماؤں نے بنگلہ دیش کے قیام کے پہلے دس سالوں میں اس کی قیادت کی تھی۔
شیخ حسینہ نے اپنے والد، ملک کے بانی مجیب الرحمان کی جماعت عوامی لیگ کی قیادت کی، جنہیں 1975 میں قتل کر دیا گیا تھا۔
خالدہ نے بنگلہ دیش نیشنل پارٹی ، بی این پی کو اپنے شوہر ضیا الرحمان کے بعد سے سنبھالا تھا ،جنہیں 1981 میں قتل کر دیا گیا تھا۔
ان دونوں کا دیرینہ تنازعہ ، جو "بیٹل آف دی بیگمز” یا "بیگمات کی جنگ” کے نام سے جانا جاتا ہے، کئی دہائیوں سے بنگلہ دیشی سیاست پر چھایا رہا ہے۔
2009 میں حسینہ کی جیت کے بعد سے،خالدہ کو کئی مجرمانہ الزامات اور جیل کا سامنا کرنا پڑا، انہوں نے عوامی زندگی سے کنارہ کشی اختیار کی اور اپنے سب سے بڑے بیٹےکو اپنی سیاسی تحریک کا قائم مقام رہنما بنا دیا جو جلاوطن ہیں۔
پندرہ اگست 1945 کو پیدا ہونے والی خالدہ ڈاکٹروں کے مطابق، جگر کی بیماری، ذیابیطس اور دل کے مسائل میں مبتلا ہیں۔
اپنے پہلے نام سے مشہور، خالدہ کو 1981 میں اپنے شوہر کے ایک فوجی بغاوت کی کوشش میں قتل کیے جانے تک بڑے پیمانے پر ایک گھریلو بیوی اور بچوں کے لیے وقف ماں کے طور پر دیکھا جاتا تھا ۔
بنگلہ دیش کو غربت اور معاشی پسماندگی سے آزاد کرانے کے اپنے مقصد کو پورا کرنے کے عزم کے ساتھ سیاست میں قدم رکھنے کے تین سال بعد وہ اپنے شوہر کی قدامت پسند پارٹی بی این پی کی سربراہ بن گئیں۔
انہوں نے اور حسینہ نے جمہوریت کے لیے ایک عوامی بغاوت کی قیادت کرنے کے لیے اتحاد کیا تھا جس نے 1990 میں فوجی حکمران حسین محمد ارشاد کا تختہ الٹ دیا ۔ لیکن سیاسی عداوت نے ان کے تعلقات کو متاثر کیا اور اس وقت سے وہ دونوں مسلسل ایک دوسرے سے نبرد آزما ہیں۔
سال 1991 میں بنگلہ دیش میں ہونے والے ان انتخابات میں، جنہیں آزادانہ انتخابات کے طور پر سراہا گیا ،خالدہ نے اسلامی سیاسی اتحادیوں کی حمایت حاصل کرتے ہوئے حسینہ پر حیرت انگیز کامیابی حاصل کی۔
ایسا کرتے ہوئے، وہ بنگلہ دیش کی پہلی خاتون وزیر اعظم اورپاکستان کی بے نظیر بھٹو کے بعدخاص طور پر کسی مسلم ملک کی جمہوری حکومت کی قیادت کرنے والی دوسری خاتون بن گئیں ۔
انہوں نے صدارتی نظام کو پارلیمانی طرز حکومت سے بدل دیا تاکہ اقتدار وزیر اعظم کے پاس رہے، غیر ملکی سرمایہ کاری پر پابندیاں ہٹا دیں اور پرائمری تعلیم کو لازمی اور مفت کر دیا۔
وہ 1996 کے الیکشن میں حسینہ سے ہار گئیں، پھر پانچ سال بعد ایک اور الیکشن میں اقتدار میں واپس آئیں۔ ان کی دوسری مدت اسلام پسند عسکریت پسندوں کے عروج اور بدعنوانی کے الزامات کی وجہ سے متاثر ہوئی۔
سن 2004 میں ایک ریلی میں جس سے حسینہ خطاب کر رہی تھیں ،دستی بموں کا حملہ ہوا جن میں حسینہ تو بچ گئیں لیکن 20 سے زیادہ لوگ مارے گئے اور 500 سے زیادہ زخمی ہوئے۔
خالدہ کی حکومت اور ان کے اسلامی اتحادیوں پر بڑے پیمانے پر اس کا الزام لگایا گیا، اور برسوں بعد خالدہ کے بڑے بیٹے پر غیر حاضری میں مقدمہ چلایا گیا اور اس حملے پر عمر قید کی سزا سنائی گئی۔
بی این پی نے الزامات کو غلط قرار دے کر انہیں مسترد کیا ۔
اگرچہ خالدہ نے بعد میں اسلام پسند اساس پسند گروہوں پر قابو پالیا، لیکن وزیر اعظم کے طور پر ان کا دوسرا دور 2006 میں ختم ہوا جب فوج کی حمایت یافتہ عبوری حکومت نے سیاسی عدم استحکام اور سڑکوں پر تشدد کے درمیان اقتدار سنبھالا۔
عبوری حکومت نے خالدہ اور حسینہ، دونوں کو، 2008 میں عام انتخابات سے قبل رہا ہونے سے قبل تقریباً ایک سال تک بدعنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزام میں جیل بھیج دیا تھا۔
اگرچہ بی این پی نے 2008 کے انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا اور خالدہ نے کبھی دوبارہ اقتدار حاصل نہیں کیا تھا، لیکن حسینہ کے ساتھ ان کی شدید دشمنی بنگلہ دیشی سیاست پر حاوی رہی۔