بنگلہ دیش: عبوری حکومت کیلئے فوج کی سربراہی میں حکومت تسلیم نہیں کرینگے،طلبا

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بنگلہ دیش میں وزیر اعظم حسینہ واجد کی استعفیٰ و ملک سے جانے کے بعدنئی عبوری حکومت کی تشکیل کی تیاریاں جاری ہیں لیکن طلبا کی جانب سے کہا گیا کہ ان تجویز کی کردہ عبوری حکومت کے علاوہ کوئی حکومت قبول نہیں کی جائے گی۔اور نہ ہی فوج کی حمایت یافتہ یا فوج کی سربراہی میں کسی حکومت کو تسلیم نہیں کریں گے۔

بنگلہ دیش کے آرمی جنرل وقار الزماں منگل کو طلبہ رہنماؤں سے ملاقات کریں گے اور عبوری حکومت سے متعلق ناموں پر بات چیت کریں گے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق بنگلہ دیش کی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ جنرل وقار الزمان دن بارہ بجے مظاہروں کے منتظمین سے ملیں گے۔

بنگلہ دیش کی وزیرِ اعظم شیخ حسینہ کے استعفے کے بعد آرمی چیف جنرل وقار الزمان نے سرکاری ٹی وی پر قوم سے خطاب کے دوران اعلان کیا تھا کہ وہ ملک کا انتظام چلانے کے لیے عبوری حکومت تشکیل دی جائے گی۔

بنگلہ دیش میں عبوری حکومت کے قیام کے لیے مشاورت کا عمل شروع ہو گیا ہے جب کہ طلبہ رہنماؤں نے مطالبہ کیا ہے کہ نوبیل انعام یافتہ معاشیات کے ماہر محمد یونس کی نگرانی میں عبوری حکومت تشکیل دی جائے۔

مظاہروں کی قیادت کرنے والے طلبہ رہنما ناہید اسلام نے منگل کو ایک ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ طلبہ کی جانب سے تجویز کردہ عبوری حکومت کے علاوہ کوئی حکومت قبول نہیں کی جائے گی۔

انہوں نے بعض دیگر اسٹوڈنٹس رہنماؤں کے ہمراہ فیس بک ویڈیو میں کہا کہ وہ فوج کی حمایت یافتہ یا فوج کی سربراہی میں کسی حکومت کو تسلیم نہیں کریں گے۔

ناہید اسلام نے کہا کہ انہوں نے نوبیل انعام یافتہ محمد یونس سے بات کی ہے اور انہوں نے طلبہ کی دعوت پر عبوری سیٹ اپ میں شمولیت پر رضا مندی ظاہر کیا ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق محمد یونس نے فوری طور پر طلبہ کی درخواست پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

چراسی سالہ محمد یونس گرامین بینک کے سابق مینیجنگ ڈائریکٹر ہیں جنہیں بنگلہ دیش میں غربت کے خاتمے کے لیے کی جانے والی کوششوں کے نتیجے میں 2006 میں امن کے نوبیل انعام سے نوازا گیا تھا۔

محمد یونس نے دیہی علاقوں کے پسماندہ افراد کو غربت سے نکالنے کے لیے انہیں چھوٹے چھوٹے قرضوں کا پروگرام شروع کیا تھا جس کے نتیجے میں لاکھوں بنگلہ دیشی افراد غربت سے نکلنے میں کامیاب ہوئے تھے۔

Share This Article
Leave a Comment