جماعت اسلامی کے رہنما سینیٹر مشتاق احمد خان نے بٹگرام میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میںبٹگرام کی زمین سے بلوچ یکجہتی کمیٹی کے تحت گوادر کنونشن کو یکجہتی کا پیغام دیتا ہوں۔
اہوںنے کہا کہ میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے تمام دستوری جمہوری مطالبات کی حمایت کرتا ہوں۔ گوادر میں منعقد ہونے والے کنونشن کی تائید کرتا ہوں۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کنونشن کے شرکاء پر ریاستی جبر کی مذمت کرتا ہوں۔ جبری گمشدگی اور ماورائے عدالت قتل کی کسی صورت اجازت نہیں دی جا سکتی۔ یہ حکومتی دہشت گردی ہے۔
انہوںنے مزید کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے اس مطالبات کے ساتھ میں تائید کرتا ہوں کہ جبری گمشدگی ختم کردی جائے۔
سینیٹر مشاتق احمد کا کہنا تھا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کہتی ہے کہ جب عدالت ہے ،قانون ہے توفوج لوگوں کو پکڑ کر مارتی کیوں ہے؟
انہوںنے کہا کہ ماورائے عدالت قتل ، دہشت گردی بند کردی جائے۔
جماعت اسلامی رہنما نے کہا کہ میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے اس مطالبے کی تائید کرتا ہوں۔بلوچ یکجہتی کمیٹی کے گوادر کے اندر کنونشن( بلوچ راجی مچی)تائید کرتا ہوں۔ان کے مطالبات کی تائید کرتا ہوں۔ان کے اوپر ہونے والی ریاستی جبر کی مذمت کرتا ہوں۔بلوچ یکجہتی کمیٹی اور بلوچ عوام کے ساتھ ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ گوادر کے ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمان نے بلوچستان اسمبلی میں وزیر اعلیٰ کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ تم کس طرح کی بلوچ ہو؟ تم نے کوئٹہ کے سڑکوں پرایک بلوچ خاتون کی سرسے چادرچھین لی۔تو ایک حکومتی وزیر نے اٹھ کرمولانا ہدایت الرحمان بلوچ پر حملہ کردیا۔
سینیٹر مشتاق نے کہا کہ میں مذمت کرتا ہوں اس حکومت کو کہ بلوچ خاتون کے چادرکو انگریز کے دور میں بھی کسی نے ہاتھ نہیں لگایاتھا لیکن آج میری بلوچ مائوں کی سروں کی چادر محفوظ نہیں ہے۔میں بلوچ عوام کو ان کی جائز ، دستوری ،جمہوری ، قانونی جدوجہد پہ ان کی تائید وحمایت کرتا ہوں۔