وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے احتجاج کو 3980 دن مکمل ہوگئے۔
وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے رہنماء ماما قدیر بلوچ نے اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہر بلوچ جو قوم دوستی، ہمدردی کا جذبہ رکھتا ہے۔ ریاستی فورسز کے ہاتھوں ان کی سرکوبی کو حب الوطنی اور مسلمانیت کا تقاضا گردانا جاتا ہے اس لا متناعی تشدد کے سلسلے میں حتیٰ کہ ننھے بچے بھی محفوظ نہیں جو شاید ان کی اسی روایتی سوچ کا عکاس ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی معاشرے میں جھوٹ کو کامیابی کی کنجی سمجھا جاتا ہے۔ صحافتی حلقے جھوٹ اتنا بولتے ہیں کہ سچائی اپاہج ہوگئی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ان کے ہاں کسی نے سچائی کے دونوں پاؤں کاٹ کر کہیں پھینک دیئے ہیں اور ہر طرف جھوٹ دوڑتا بھاگتا نظر آتا ہے اسی طرح پاکستانی سیاست پر جھوٹ کا غلبہ ہے، ملکی معیشت کو جھوٹ پر چلایا جارہا ہے اور اس ملک اور اس کے زیر اثر ذرائع ابلاغ سے کیا خیر کی توقع کی جاسکتی ہے جو لاکھوں جیتے جاگتے انسانوں کے خون سے پیاس بجھانے اور اپنے حوس کی آگ کو ٹھنڈا کرنے کے بعد بھی بڑے ڈھٹائی کے ساتھ کہتے ہیں کہ یہ تو حب الوطنی کا تقاضا تھا۔
ماما قدیر بلوچ کا کہنا تھا کہ پاکستانی ذرائع ابلاغ کے کرتا دھرتا آج بھی اس حقیقت کو ماننے کے لیے تیار نہیں اور تمام حقائق کے سامنے آنے کے باوجود بھی یہ تلخ حقائق کا گھونٹ پینے کیلئے تیار نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی فورسز نے آپریشنوں کا دائرہ وسیع کرکے مشکے سے لیکر تمپ، مند، پنجگور، خاران اور بلوچستان کے مختلف علاقوں تک پھیلا دیا گیا ہے۔ بلوچ فرزندوں کی جبری گشمدگیوں اور حراستی قتل میں مزید تیزی لائی گئی ہے۔ ریاستی درندگی میں اضافہ محض اتفاق نہیں بلکہ یہ پاکستانی پارلیمانی مفاد پرست پارٹیوں کے فرمائش کا نتیجہ ہے۔