ایران میں مغربی بلوچستان کے مختلف شہروں اور علاقوں کے ممتاز بلوچ علماءنے نماز جمعہ سے پہلے اپنے خطابوں میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے زیر اہتمام گوادر دھرنے سے حمایت کا کھلا اعلان کیا۔
مغربی بلوچستان کے مرکز زاہدان کے مرکزی خطیب شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے گوادر دھرنے میں شریک خواتین کو بہادر خواتین یاد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی حکومت پرامن مظاہرین پر کریک ڈائون سے گریز کرے۔ گوادر میں جمع ہونے والے مظاہرین لاپتہ افراد کی تقدیر معلوم کرانے کے مطالبہ سمیت دیگر مطالبات کو لے سڑکوں پر نکلے ہیں۔ حکومت ان کی باتیں سن لے۔
انہوں نے کہاکہ عوام کے مطالبات پر توجہ دینے کا فائدہ سب کو پہنچتاہے۔
بلوچستان کے ضلع سرباز کے ایک خطیب مولانا واحدبخش بلوچی نے بھی حکومت پاکستان اور پاکستانی علما کو مخاطب کرکے بلوچ عوام کی پشت پناہی پر زور دیاہے۔
انہوں نے پاکستانی علما کی خاموشی پر تنقید کرتے ہوئے بلوچ ایشو پر کلمہ حق بلند کرنے کو وقت کا تقاضا قرار دیا۔
نوبندیان میں مفتی اعظم بلوچستان مولانا مفتی محمدقاسم قاسمی نے خطاب کرتے ہوئے بلوچستان کے مسئلے پر حکومت پاکستان کے رویے پر سخت تنقید کی۔
انہوں نے کہا لاپتہ افراد کے کیس اور ماورائے عدالت گرفتاریوں نے بلوچ عوام کو پریشان کررکھاہے۔